پیرامڈس کیسے بنے

image
Image
Description


پیرامڈس یا اہراموں کا سنتے ہی ہمارے دماغ میں سب سے پھلے اہرام مصر کا نام آتا ہےجنہیں تقریبا ٢٥٠٠ سے ٣٠٠٠ قبل مسیح میں بنایا گیا . مصر میں غزہ کے مقام پر سب سے بڑےتین اہرام خوفو، خافرہ اور مینکاؤرا دُنیا کے عجائبات میں پہلے نمبر پر اتے ہیں ان میں سب سے بڑے اہرام کا نام خوفو (Khufu) یا چیوپس (Cheops) ہے ۔جو 13 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہہے یعنی آج کے دور کے سولہ فٹبال گراؤنڈز جتنا ہے.یہ جب بنایا گیا اس وقت اسکی ہائٹ 482 فٹ تھی جو ایک منزل گرنے سے اب اندازاً 450 فٹ رہ گئی ہے۔ اس کی تعمیر میں 2500000 چونے کے پتھر کے بلاک استعمال کیے گئے جن میں ہر پتھر کا وزن 2.5 ٹن سے لے 300 ٹن تک جا پہنچتا ہے. اگر خوفو کے اہرام کو تیس سینٹی میٹر کی چوڑائی میں کاٹا جائے تو پورے فرانس ملک کے چاروں طرف ایک میٹر اونچی دیوار بنائی جا سکتی ہے. خوفو کا اہرام بیس سال کے قلیل عرصے میں تیار ہوا،اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھروں کو اہرام سے آٹھ سو کلومیٹر دور موجود شہر اسوان (Aswan) سے لایا جاتا تھا.اور آجایسے کسی اسٹرکچر کو ہماری جدید مشینری بھی ان بھاری ترین پتھروں کو اٹھا کر نہیں بنا سکتی .انکی بناؤٹ میں mathematics کے اصولوں کو دیکھ کر جدید سائنس بھی حیران اور پریشان رہ جاتی ہے.آج کے جدید ترین سپر کمپیوٹر کو جب ایک اہرام کا ڈیزائن تیار کرنے کا کام دیا گیا تو اہرام کا ڈیزائن اور اس میں استعمال کیے گئے mathematics کے اصول اتنے پیچیدہ تھے کہ سپر کمپیوٹر کو صرف ڈیزائن بناتے ہوئے ایک ہزار (1000) گھنٹے لگ گئے،سینکڑوں ٹن وزنی پتھروں کو اس مہارت سے ایک دوسرے کے اوپر رکھا گیا ہے کہ ان کا درمیانی فاصلہ ایک انچ کے پچاسویں حصے کے برابر ہے،تصور کریں سینکڑوں ٹن وزنی پتھر اور جوڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ بھی نہیں کہ ایک سوئی تک اندر جا سکے .ان اہراموں کی بنیاد چوکور ہے لیکن ان کے پہلو تکون نما ہیں. یہ تکونیں اُوپر جاکر ایک نکتے پر مل جاتی ہیں. اور ہر زاویہ بالکل سیدھ میں موجود ہے.
ان اہراموں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان کے اندر کا temp ہمیشہ زمین کے نارمل temp کے برابر رہتا ہے،یعنی بیس(20) ڈگری سیلسئیس باہر چاہے آندھی ہو بارش ہو گرمی ہو سردی اندر کا موسم کونسٹنٹ ایک جیسا رہتا ہے،3800 سال تک اس کے سرپر دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت کا تاج سجا رہا.
. تو پھر سوال یہ ہے کے آج سے ہزاروں سال پہلے جب ایسی کسی مشینری یا tehcnology کا نام نشان نہیں تھا ان پیرامڈس کو کس نے اور کیوں بنایا .آج بہت سے scintist اسے explai کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر کسی کے پاسس اسکا کوئی جواب نہیں . کچھ scintist کا ماننا ہے کے انہیں اس وقت کے مصر کے بادشاہ نے جنہیں فرہوں کھٹے تھے اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر تیار کروایا .اس وقت یہ رسم تھی کے مارنے والے فرہوں کے ساتھ اسکے خزانے کھانا پینا ملازم اور بیویوں کو بھی ہنود کر کے اسکے ساتھ رکھا جاتا تھا کیوں کے انکا ماننا تھا کے وہ مرنے کے بعد ایک بار پھر بیدار ہوں گے اور اس سب چیزوں کی اس وقت انکو ضرورت پڑے گی .جبکے کچھ انہیں alians سے جوڑتے ہیں جو کسی زمانے میں اس زمین پر اترے اور ان اسٹرکچر کو اپنی ٹیکنالوجی اور طاقت کی نشانی کے طور پر چھوڑ گے مگر آج بھی یہ ایک پہلی ہے اور دنیا کے 7 عجوبوں میں سے ایک ہے .حیرت کی بات تو یہ ہے کے یہ اہرام صرف مصر میں ہی موجود نہیں جیسا کے ام طور پر لوگوں کو لگاتا ہے بلکے یہ اہرام پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں،جی ہاں چین سے لے کر شمالی امریکہ تک اور حتی کہ سمندروں میں بھی کئی عمارتیں اہراموں کی شکل میں ملی ہیں. مصر میں ١٠٠ کے قریب اہرام موجود ہیں مگر اس سے ڈبل سوڈان کے صحرا میں .اسکے علاوہ ٣٠ کے قریب maxico ملک میں موجود ہیں جن کی shape میں تھوڑا بہت فرق ہے مگر بنیادی اسٹرکچر سب کا ایک جیسا ہی ہے
امام احمد رضا خان بریلوی اس بارے میں اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کے یہ اہرام طوفان نوح کے وقت بھی موجود تھے .اور انہیں انسانوں نے نہیں بلکے جنات نے بنایا جی ہان .بالکل اسی ہی جسے حضرت سلمان نے جنات سے ہیکل سلمانی کی تعمیر کروائی .اوہ کہتے ہیں کے
ان کی تعمیر حضرت آدم کے دنیا پر انے سے بھی سے 14 ہزار (14000) سال پہلے زمین پر بسنے والی ایک مخلوق کے ہاتھوں ہوئی یعنی جب اس دنیا پر صرف جنات بستے تھے ۔حضرت نوح علیہ السلام کی امت پر جس روز سمندری پانی کا طوفان نازل ہوااس دن رجب کی پہلی تاریخ تھی، اس طوفان میں شدید بارش بھی ہورہی تھی اور زمین سے بھی پانی ابل رہا تھا۔ الله کے حکم سے نوح علیہ السلام نےجو کشتی تیار فرمائی تھی وہ 10 رجب کو تیرنے لگی۔ اس کشتی پر 80 آدمی سوار تھے جس میں دو نبی تھے( یعنی حضرت آدم وحضرت نوح علیہم السلام)۔ کیوں کے حضرت نوح علیہ السلام نے اس کشتی پر حضرت آدم علیہ السلام کا تابوت بھی رکھ لیا تھااور اس کشتی کے ایک طرف مرد اور دوسریترد عورتیں بیٹھی تھیں۔ پانی اس وقت موجود سب سے اونچے پہاڑ سے بھی 30 ہاتھ اونچا ہوگیاتھایعنی زمین سے تقربا 10 کلومیٹر اوپر تک صرف پانی ہی پانی تھا ۔دس محرم کو چھ(6)مہینے کے بعد یہ کشتی ترکی میں موجود جودی پہاڑ پر ٹھہرگئی جسکے نشان آج بھی اس پہاڑ پر موجود ہیں کیوں کے برف نے ہزاروں سال تک اس کے نشان کو ختم ہںنے سے بچے رکھا ۔ سب لوگ پہاڑ سے اترے اور پہلا شہر جو بسایا گیا اس کا نام ”سوق الثمانین” رکھا گیا ۔ یہ بستی جبل نہاوند کے قریب عراق کے سہر ”موصل” میں واقع ہے۔اس طوفان میں ایسی اونچی عمارتیں جو گمبد اور مینار کی طرح دیکھتی تھیں باقی رہ گئی تھیں جنہیں کچھ نقصان نہ پہنچا۔ اس وقت روئے زمین پر سوائے ان کے اور عمارت سہی سلامت موجود نہیں تھی۔ یعنی یہ اہرام حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی (5750سال) یا پونے چھ ہزار ہزار پہلے کے بنے ہوئے ہیں اور یہ قوم جن کی تعمیر ہے جو کہحضرت آدم علیہ کی پیدائش سے (60000) ساٹھ ہزار سال پھلے زمین پر رہ چکی ہے۔”
یعنی کہ اہرام کا بننا سب جنات کی کارستانی ہے.اگر دیکھا جائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ جنات جیسی قوم کو اتنی بڑی تعمیر کرنے کی ضرورت کیوں پڑی وہ بھی انسانوں سے پہلے ؟اور اس کے بعد ا ن کی کوئی ایسی تعمیر نظر نہیں آتی جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ جنات کی بنائی ہوئی ہے.بیت المقدس کے بارے میں اگر کہا جائے کہ وہ جنات کی بنائی ہوئی ہے تو وہ جبری طور پر حضرت سلمان کے حکم پر بنوائی گئی کیوں کے الله نے جنات کو انکے تابہ کر دیا تھا ہے.لیکن سب سے اہم سوال کے پندرہ سے بیس ہزار سے پہلے جب انسانی قدم نے زمین کو نہیں چھوا تھا تب جنات کو اس جبری کام پر کس نے مجبور کیا یہ ایسا سوال ہے جسکا جواب ہم نہیں جانتے کیوں کے اسکا ذکر نا تو تاریخ میں کھیں موجود ہے اور ہی کوئی ٹائم ٹراولر آ کر اسے کونفرم کرنے والا ہے بلکے اسکا علم صرف الله کے پاسس ہے .تو کیا مصری اس تخلیقات کے بانی نہیں تھے کیونکہ مصری تو آج سے پانچ ہزار سال پہلے ہی دریائے نیل کے کنارے آباد ہونا شروع ہوئے تھے اور دوسری بات کے یہ اہرام پوری دنیا میں موجود ہیں نا کے صرف مصر میں .کیا احمد رضا خان بریلوی کے مطابق جنات ہی ان کی تعمیر کے ذمہ دار تھے؟ کیوں کے .ڈھائی سو ٹن وزنی پتھروں کو سطح زمین سے چھ ہزار فٹ اوپر لے جانا آج کے جدید ترین ہیلی کاپٹر کے بس کی بات نہیں ہے.ہاں ہوائی جہاز اتنا وزن اٹھا سکتے ہیں مگر مطلوبہ مقام تک بالکل درست سمت میں پہنچانا ا ن کی بھی اوقات سے باہر ہے.حد یہ کہ اڑھائی اڑھائی سو ٹن وزنی پتھروں کو چھ ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچایا گیا.یا پھر ان کو کسی خلائی مخلوق کا کارنامہ سمجھا جائے؟
خلافت عباسیہ کے ساتویں خلیفہ خلیفہ مامون الرشید ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کے اکیلے ایسے بادشاہ ہیں جن کو علمی اور تحقیقی کام کا شوق تھا انہوں نے اعلان کر رکھا تھا جو شخص اسے ایک کتاب لکھ کر دے گا یا کسی غیر ملکی کتاب کا ترجمہ عربی زبان میں کرے گا وہ ا س کو اس کتاب کے وزن کے برابر سونا دے گا. اور ساتھ میں کتاب میں موجود علمی مواد کے لحاظ سے انعام و اکرام سے بھی نوازا جائے گا . اس وجہ سے دنیا بھر سے سکالرز اور سائنٹسٹ مامون الرشید کے پاس اکٹھے ہوگئے ۔اس وقت مصر اسلامی دنیا کے قبضے میں تھا.جب خلیفہ کو یہاں موجود کچھ عجیب و غریب عمارتوں کا پتا چلا اور ساتھ میں یہ بھی کہ اس میں مصری بادشاہوں کو اپنے خزانے کے ساتھ دفنایا گیا ہے.مامون الرشید اپنے ساتھ سینکڑوں ریسرچرز کو لے کر نکلا اور آج کل جہاں ابوالہلول کا مجسمہ ہے جو کہ اس وقت مٹی میں دب چکا تھا اس کے اوپر پڑاؤ ڈالا. ا نہیں سخت مایوسی اس وقت ہوئی جب انہیں اہرام میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہ ملا.آخر کار خلیفہ نے اہرام کو توڑ کر راستہ بنانے کا حکم دیا. اہرام اتنا مضبوط تھا کہ اس پر کوئی بھی چیز اثر نہیں کر رہی تھی پھر انہوں نے یہ طریقہ نکالا کہ پتھروں کو پہلے گرم کرتے پھر اس کے اوپر ٹھنڈا پانی ڈال دیتے جس سے پتھر تڑخ جاتے اور اس طرح روز ایک فٹ کے حساب سے روز آگے کا راستہ بنانے لگے.آخر کار ا ن کی پہنچ کوئین چیمبر اور کنگ چیمبر تک ہوئی جہاں پر خزانہ تو دور ممیاں بھی نہیں تھیں. مامون الرشید دل برداشتہ ہو کر وہاں سے چلا گیا اور سارا کام وہیں پڑا رہ گیا.
یہاں کی مقامی آبادی جو پہلے توہم پرستی کی وجہ سے اہرام کے قریب نہیں جاتی تھی انہوں نے جب دیکھا کہ کئی مہینوں سے پڑاؤ ڈالے ہوئے بادشاہ کو کوئی اثر نہیں ہوا تو ان کا ڈر خوف ختم ہوگیا اور پھر اہرام کے اوپر لگے ہوئے ٹائلوں کو بھی اتار لیا گیا اور لوٹ مار کا ایک بازار گرم ہوا اور یعنی اگر کوئی ثبوت اہراموں کے اندر بچا بھی تھا تو اس کو بھی لوٹ لیا گیا.
بدھ ازم میں ان اہراموں کو خاصی اہمیت حاصل ہے ان کے مطابق یہ اہرام زیر زمین دنیا کا راستہ ہیں.اور روحانیت کا مرکز ہیں.جب دنیا میں کوئی بڑی مصیبت آئی تو ان کے روحانی پیشوا نیچے چلے گئے. اس زیرزمین دنیا میں ان کے روحانی پیشواؤں کی حکومت ہے اور ان کا مرکزی فرضی شہر تبت کے نیچے ہے جہاں پر دلائی لامہ اور روحانیت میں آگے بڑھے ہوئے شخص حکومت کرتے ہیں.اب اگر سوال کیا جائے کہ چلو مان لیتے ہیں جب تک زمین کے حالات ٹھیک نہیں تھے تب تک تو وہ نیچے رہتے لیکن جب زمین کے حالات ٹھیک ہوگئے تب وہ اوپر کیوں نہیں آئے؟
نپولین نے اہراموں کی شہرت سن رکھی تھی اس نے مصر پر حملہ کرکے غزہ پر قبضہ کرلیا اور پھر اس نے اہراموں کو بنیادوں سے کھود کر اندر جانے کا راستہ کھلوایا. اس کے بعد کام کو روک دیا گیا اور نپولین اکیلا اندر داخل ہوا،کافی دیر تک وہ اندر رہا جب وہ باہر نکلا تو اس کے چہرے پر کافی گھمبیر خاموشی تھی ،اس نے اپنے مصاحبین کو سامان اٹھا کر چلنے کا کہا.اس دوران وہ بالکل خاموش رہا
اہرام مصر ایک ایسی پہیلی ہیں جس کو حال کرنے میں scince ٹیکنالوجی اور موجودہ دور کے advance ترین انسان کی عقل نقافی ہے لکن کوشیحہ اور کھوج انسان کی فطرت میں شامل ہے اب دیکھنا یہ ہے کے یہ فطرت اسے کہاں تکپوچنچاتی ہے کے ہزاروں سال سے نیچر اور وقت کیمار جیھل کر وقت اور انسانوں کو چیلنج کرنے والی یہ پہیلی کب حال ہوتی ہے مرا ذاتی طور پر یہ ماننا ہے کے یہ انسانوں جسی مکلوق کے بس کی بات نہیں بلکے جنات کا ہی کم ہے لکن او اس بڑے میں کیا سوچتے ہیں مگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *