ہندوستان پر سترہ بار حملہ کرنے اور برصغیر میں اسلام پھیلانے والے سلطان محمود غزنوی بت شکن یا لٹیرے؟

You must need to login..!

Embed Code

Description

دولت سامانیہ کی حکومت خلافت امیہ کے خاتمے کے بعد 874ء میں ٹرانس سینیا میں قائم ہوئی ٹرانس سینیا یا ماوراء النہر سینٹرل ایشیا کے ایک علاقے کو کہا جاتا ہے جس میں موجودہ دور کے ازبکستان، تاجکستان اور جنوب مغربی قازقستان شامل ہیں۔ اپنے اپنے باپ دادا اسد بن سامان کے نام پر یہ خاندان سامانی کہلاتا ہے۔ نصر بن احمد بن اسد سامانیوں کی آزاد حکومت کا پہلا حکمران تھا۔ ٹرانس سینیا کے علاوہ موجودہ افغانستان اور خراسان بھی اس کی حکومت میں شامل تھے۔ اس کا دار الحکومت بخارا تھا۔ سامانیوں نے 1005ء تک (یعنی کل 134 سال) حکومت کی۔ اس عرصے میں ان کے دس حکمران ہوئے۔آخری دور میں سامانی حکومت بھی عباسیوں کی طرح کمزور ہوتی چلی گئی۔ مختلف گورنروں نے بغاوت کا اعلان کر دیا۔ خراسان اور غزنی کے علاقوں میں ان کے ایک سپہ سالار سبکتگین نےجو ایک ترک غلام کمانڈر (غلمان) تھے اس نے اپنی آزاد حکومت قائم کرلی۔ اسی طرح بخارا اور سمرقند پر کاشغر کے بادشاہ نے ایک خاندان پر قبضہ کرکے سامانی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔جب سامانی حکومت کمزور ہو گئی اور اس کے صوبہ دار خود مختار ہو گئے تو ان میں ایک صوبہ دار سبکتگین (366ھ تا 387ھ) نے افغانستان کے دار الحکومت کابل کے جنوب میں واقع شہر غزنی میں 366ھ میں ایک آزاد حکومت قائم کی جو تاریخ میں دولت غزناویہ غزنوی حکومت یا آل سبکتگین کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بعد میں سبکتگین کا خراسان پر بھی قبضہ ہو گیا۔ اسی سبکتگین کے زمانے میں مسلمان پہلی مرتبہ درہ خیبر کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے ۔سلطان محمود غزنوی جس کی سب سے بڑی وجہ شہرت ہندوستان پر سترہ حملے ہیں‘ انکی بنیادی وجہ جان لینا انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ پاکستان کے علاقے شہر لاہور سے پشاور تک کا علاقہ ایک ہندو راجہ جے پال کے زیر اس کی حکومت پشاور سے آگے کابل تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کی سرحدیں سبکتگین کی حکومت سے ملی ہوئی تھیں۔ راجا جے پال نے جب دیکھا کہ سبکتگین کی حکومت طاقتور بن رہی ہے تو اس نے ایک بڑی فوج لے کر غزنی پر حملہ کر دیا لیکن لڑائی میں سبکتگین نے اس کو شکست دے دی اور جے پال کو گرفتار کر لیا گیا۔ جے پال نے سبکتگین کی اطاعت قبول کرکے اپنی جان بچائی اور سالانہ خرچ دینے کا وعدہ کیا۔ اب سبکتگین نے جے پال کو رہا کر دیا اور وہ لاہور واپس آ گیا لیکن اس نے وعدے کے مطابق خرچ نہیں بھیجا جس کی وجہ سے سبکتگین نے حملہ کر دیا اور وادی پشاور پر قبضہ کر لیا. لڑائی سے پہلے جے پال اپنے اردگرد کے راجاؤں سے مدد لیکر گیا تھا اس لئے شکست کے بعد نہایت شرمندگی کی حالت میں اپنی حکومت بیٹے انندپال کے حوالے کرکے خود لاہور کے ایک دروازے کے پرانے برگد کے درخت کے پاس ایک بہت بڑی چتا جلائی اور جل مرا۔ا۔سبکتگین کا 20 سال کی حکومت کے بعد انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا محمود غزنوی تخت پر بیٹھا۔ جب سکتگین کی وفات اگست 997 میں ہوئی تو اس وقت سلطان محمود اپنے والد کی طرف سے نیشاپور کا حاکم مقرر تھا اور سلطان کا بھائی اسماعیل جو باپ کی وفات کے موقع پر غزنی میں ہی موجود تھا‘اس نے خود ہی اپنی تاج پوشی کا اعلان کردیا۔سلطان محمود نے پہلے خطوط و کتابت کے ذریعے بھائی اسماعیل سے بات کرنے کی کوشش کی جب کوئی حل نہ نکلا تو 998 میں غزنی پر حملہ کردیا۔سلطنت تھا۔

اسماعیل کی حکومت ختم کرکے خود غزنی کی سلطنت سنبھال لی۔ سلطان محمود خاندان سبکتگین کا سب سے بڑا بادشاہ ہوا ہے۔ اسلامی تاریخ کے مشہور حکمرانوں میں سے ایک محمود ہندوستان پر 17 حملوں کے باعث شہرت کی بلندیوں پر پہنچا۔ کی فوج کم و بیش ایک لاکھ تھی اور فوج میں عرب‘ غوری‘ سلجوق‘ افغان‘ مغل کے علاوہ دس سے پندرہ ہزار ہندو سپاہی بھی شامل تھے.سلطان محمود بچپن سے ہی بڑا نڈر اور بہادر تھے ۔ وہ اپنے والد کے ساتھ کئی لڑائیوں میں حصہ لے چکے تھے ۔ بادشاہ بننے کے بعد انہوں نےاپنی سلطنت کو پے در پے فتوحات کے ذریعے مزید پھیلایا کیوں کے وہ ایک کامیاب سپہ سالار اور فاتح بھی تھا۔ شمال میں انہوں نے خوارزم اور بخارا پر قبضہ کر لیا.غزنوی حکمرانوں کا دور پاکستان کی تاریخ میں خاص طور پر بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان تقریباً 200 سال تک غزنی کی سلطنت کا حصہ رہا اور اس زمانے میں اسلامی تہذیب کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ کوہ سلیمان کے رہنے والے پٹھانوں نے اسی زمانے میں اسلام قبول کیا اور لاہور پہلی مرتبہ علم و ادب کا مرکز بنا۔غزنویوں کے دور میں لاہور پہلی مرتبہ علم و ادب کے مرکز کے طور پر ابھرا۔ اس زمانے میں فارسی کے کئی ادیب اور شاعر یا تو لاہور میں پیدا ہوئے یا یہاں آکر آباد ہوئے.لاہور کے علما میں حضرت علی بن عثمان ہجویری (400ھ تا 465ھ) بہت مشہور ہیں۔ وہ ایک بہت بڑے ولی تھے جن کی وجہ سے لاہور کے علاقے میں اسلام کی اشاعت ہوئی اور بہت سے ہندو مسلمان ہوئے۔ حضرت ہجویری آج کل داتا گنج بخش کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں نے 40 سال تک اسلامی دنیا کے بہت بڑے حصے کی سیر کی اور آخر میں لاہور آکر رہنے لگے۔ ان کا مزار لاہور میں موجود ہے ۔سلطان محمود غزنوی نے دوسرا حملہ جو کہ 1004 کو ہوا۔ بھنڈا یا بھیرہ جو کہ دریائے ستلج کے قریبی علاقوں پر مشتمل ریاست پر کیا جس کا راجہ بجی راؤ تھا۔ تیسرا حملہ ملتان کے حاکم ابوالفتح کے خلاف 1006 میں کیا لیکن راستے میں ہی دریائے سندھ کے کنارے جے پال کے بیٹے انند پال کے ساتھ مڈبھیڑ ہوگئی ۔سخت جنگ کے بعد انند پال کو شکست ہوئی اور بعض روایات کے مطابق وہ کشمیر پناہ لینے کے لئے بھاگ گیا۔ انند پال کو شکست دینے کے بعد سلطان محمود نے ملتان کا رخ کیا اور ملتان کو فتح کرنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ ملتان کا حاکم جے پال کے پوتے سکھ پال کو مقرر کیا جو اسلام قبول کرچکا تھا۔ جلد ہی سلطان محمود کو پھر ملتان جانا پڑا جہاں پر سکھ پال نے بغاوت کردی تھی۔ 1008 میں سلطان نے سکھ پال کو شکست دے کر معزول کردیا۔ اسی دوران انند پال جو کہ شکست کھا کر کشمیر بھاگ گیا تھا نے واپس آکرایک بار پھر سلطان کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ اس کے ساتھ ہی انند پال نے اردگرد کے راجاؤں سے مدد لیکر ایک بہت بڑا لشکر اکٹھا کردیا۔
1008 کے آخری دنوں میں ایک بار پھر دریائے سندھ کے قریب اٹک کے علاقے میں جنگ کا آغاز ہوا۔ خونریز جنگ کے بعد انند پال کو ایک بار پھر شکست ہوئی۔ 1009 کے آخری مہینوں میں ایک بار پھر سلطان محمود نے ہندستان پر حملہ کرکے پہلے نرائن پور کی ریاست کو فتح کیا اور پھر 1010 میں ملتان کے گردونواح کے علاقے اپنی سلطنت میں شامل کرلئے۔ 1014 میں سلطان نے انند پال کے بیٹے لوجن پال کو موجودہ کوہستان کے علاقے میں شکست دی اور مزید لوجن پال کی مدد کے لئے کشمیر سے آئے ہوئے ایک بڑے لشکر کو بھی شکست فاش سے دوچار کیا۔ 1015 میں سلطان محمود نے کشمیر پر حملہ کیا لیکن برف باری کے باعث راستے بند ہونے پر بغیر جنگ کے ہی واپس آنا پڑا۔ 1018 میں سلطان محمود نے پہلی بار پنجاب کے پار دریائے جمنا کے علاقے میں اپنی فوج کو اُتارا اور ہندوؤں کے مذہبی مقام متھرا کو فتح کرنے کے بعد ایک مشہور ریاست قنوج کا محاصرہ کرلیا۔ قنوج کے راجے نے سلطان سے صلح کا پیغام بھیجا اور سلطان کا باجگزار بننا قبول کرلیا.سلطان محمود غزنوی 1020ء سے 1025ء کے درمیانی عرصے میں سلطنت کے شمالی مغربی حصے اور دریائے فرات کی وادیوں میں فتوحات میں مشغول رہا۔ اسی عرصہ میں سلطان محمود کو اپنے مخبروں سے یہ اطلاعات متواتر مل رہی تھیں کہ شمالی اور وسطی ہندستان کی تمام ریاستیں سلطان سے شکست کھانے کے بعد بدلہ لینے کے لئے ہاتھ پیر مار رہی ہیں اور اب کی بار ایک مشترکہ حملے کی تیاری ہے، اس کے لئے گجرات کے علاقے کاٹھیاوار میں ایک بہت ہی مشہور مندر سومنات کو مرکز بنایا گیا ہے۔ سومنات سمندر کے کنارے ایک عظیم الشان مندر تھا‘ جسے پورے ہندستان میں ہندوؤں کے درمیان ایک مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ مندر میں موجود شیوا کے بت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شیوا بت کو غسل دینے کے لئے تازہ پانی روزانہ کی بنیاد پر دریائے گنگا سے لایا جاتا تھا۔ جنگ کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں کہ سلطان نے پیشگی حملے کی تیاری شروع کردی۔ غزنی سے سومنات تک فاصلہ تقریباً 2600 کلومیٹر بنتا ہے جس میں سے 500 کلومیٹر طویل مشکل ترین صحرائے چولستان اور راجستھان بھی پڑتا تھا۔

اکتوبر 1025 میں سلطان کی فوج تیس ہزار سپاہیوں کے ساتھ غزنی سے روانہ ہوئی۔ تین مہینوں کی مسافت کے بعد جنوری 1026 میں سومنات مندر کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ ہندستان کے طول و عرض سے مہاراجے اور راجواڑے اپنی اپنی فوج کے ساتھ مندر کی حفاظت کے لئے موجود تھے۔ جنگ کا آغاز ہوا اور ایک سخت مقابلے کے بعد سلطان محم ود فتح یاب ہوا۔ مندر کو توڑ ڈالا گیا۔ یہی وہ مشہور جنگ ہے جس کی بنا پر ہندو مورخین نے سلطان محمود کی ذات کو ایک لٹیرا مشہور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔سومنات کا مندر اتنا بڑا تھا کہ ہندوستان کے سب راجے اس کے لیے جاگیریں وقف کرتے، اپنی بیٹیوں کو خدمت کے لیے وقف کرتے جوکہ ساری عمر کنواری رہتیں اور انہیں دیوداسیاں کہا جاتا، ہر وقت 2000 برہمن پوجا پاٹ کرنے کے لیے حاضر ہوتے اور 500 گانے بجانے خوبصورت عورتیں اور 300 قوال ملازم تھے، سومنات کے بت کی چھت 56 ستونوں پہ قائم تھی وہاں مصنوعی یا سورج کی روشنی کا بندوبست بالکل بھی نہیں تھا بلکہ ہال کے قندیلوں میں جڑے اعلیٰ درجے کے جواہرات روشنی مہیا کرتے تھے،
سلطان محمود غزنوی بت شکن سونے و چاندی کے چھوٹے چھوٹے بتوں کو روندنے کے بعد بادشاہ بت کے سامنے جا کھڑے ہوئے، یہ بت 6 فٹ زمین کے اندر اور 9 فٹ زمین سے بلند تھا-
اسی دوران شہر کے معزز سمجھے جانے والے ہندوؤں نے منہ مانگی مال و دولت کی پیش کش کی کہ سومنات کے بادشاہ بت کو کچھ نا کہیں، تو سلطان محمود غزنوی کے دیسی دانشوروں نے مشورہ دیا کہ پتھر کو توڑنے کا کیا فائدہ جبکہ مال و دولت مسلمانوں کے کام آئے گا
سلطان محمود غزنوی نے دیسی دانشوروں کی بات سُن کر کہا کہ “اگر میں نے تمھاری بات مان لی تو دنیا مجھے بت فروش کہے گی جبکہ میری چاہت دنیا و آخرت میں مجھے محمود بُت شکن کے نام سے پکارا جائے”
یہ کہتے ہی محمود بُت شکن کی توحیدی غیرت جوش میں آئی اور ہاتھ میں پکڑا ہوا گرز سومنات کے دے مارا، اس کا منہ ٹوٹ کر دور جا گرا، پھر سلطان کے حکم پہ اس کے دو ٹکڑے کیے گئے تو اس کے پیٹ سے اس قدر بیش بہا قیمتی ہیرے، جواہرات اور موتی نکلے کہ جو ہندو معززین اور راجوں کی پیش کردہ رقم سے 100 گنا زیادہ تھے.محمود غزنوی نے جب “سومنات” فتح کیا تو سلطان محمود غزنوی سومنات کے سب سے بڑے مندر کے اندر داخل ہوا جس میں ہندوؤں کا سب سے بڑا دیوتا بت کی صورت میں پوجا جاتا تھا سومنات کے اس بت کو معجزوں کا دیوتا کہا جاتا تھا اور اسے ناقابل شکست بھی تسلیم کیا گیا تھا۔سومنات کے مندر میں یہ سب سے بڑا دیوتا اور بت مندر میں معلق رہتا تھا۔ بت کو مندر کے بڑے کمرے میں اس انداز میں معلق دیکھ ہر شخص اس کی برتری تسلیم کرلیتا۔اور جو برتری تسلیم نہ کرتا وہ بھی ایک بار سوچنے
پر مجبور ہوجاتا تھا کہ یہ گرانڈیل وزنی بتکسی زنجیر، کسی نظر نہ آنے والے سہارے کے بغیر کس طرح فضا میں معلق ہے. صاف ظاہر ہے کہ اس کے فضا میں معلق ہونے کا کرشمہ دکھا کر اس کی عظمت اور ہیبت کو لوگوں کے دلوں میں بٹھایا گیا تھا۔بہرحال جب سومنات فتح ہوا تو محمود غزنوی مشہور مسلم دانشور البیرونی کے ساتھ بڑے بت کو دیکھنے مندر کے اندر آگیا جب غزنوی مندر میں داخل ہوا تو اس بت کو فضا میں بغیر کسی سہارے کے معلق دیکھ کر چکرا گیا. محمود غزنوی نے حیران ہوکر البیرونی سے پوچھا۔۔۔!”یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ بت بغیر کسی سہارے کے فضا میں کس طرح معلق ہے‘‘۔البیرونی نے چند لمحے سوچا پھر ادب سے بولا: سلطان معظم! اس مندر کے چھت کے اس طرف سے چند اینٹیں نکلوادیں۔سلطان کے حکم پر چند اینٹیں نکالی گئیں۔جب چھت سے البیرونی کی بتائ ہوئ جگہ سے کچھ اینٹیں نکالی گئیں تو سومنات کے فضا میں معلق بت یکدم ایک طرف جھک گیا… اور زمین سے قریب تر آگیا۔البیرونی نے ادب سے وضاحت کی۔۔۔! سلطان معظم! یہ ان ہندو پروہتوں اور پنڈتوں کی مکاری ہے. یہ بت لوہے کا بنوایا گیا ہے اور مندر کی چھت پر مخصوص جگہ بہت بڑے مقناطیس نصب کیے گئے ہیں. یہ مقناطیس لوہے کی بت کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں اور یوں یہ بت ساکت معلق رہتا ہے. چونکہ یہ بڑے بڑے مقناطیس مضبوطی سے نصب کیے گئے ہیں اپنی جگہ سے نہیں ہلتے اسی لئے یہ بت بھی فضا میں معلق ہے۔جب مندر کی چھت اکھاڑی گئ تو وہ بت بھی دھڑام سے زمین پر گر پڑا! پھر اینٹوں کا معاینہ کیا گیا تو البیرونی کا تجزیہ سوفیصد صحیح نکلا۔ سومنات کے بعد سلطان محمود کی ہندستان پر آخری لڑائی 1027 میں ہوئی جو کہ دریائے سندھ سے دریائے بیاس کے درمیانی علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ آخری دو تین سال سلطان محمود غزنوی بیمار بھی رہا اپنی آخری جنگی مہم 1029 میں ایرانی علاقے رے میں انجام دی اور رے کے حاکم آل بویہ کو شکست دی اور کہا جاتا ہے کہ دق اور سل کے مرض میں مبتلا ہوکر اپریل 1030 میں 59 سال کی عمر میں غزنی میں وفات پائی۔محمود غزنوی کی نسل میں حکمرانوں میں سے ایک ابراہیم بڑا دین دار اور رعایا پرور حکمران تھا۔ رات کو غزنی کی گلیوں میں گشت کرتا اور محتاجوں اور بیواؤں کو تلاش کرکے ان کی مدد کرتا۔ وہ اعلیٰ درجے کا خوش نویس تھا۔ ہر سال ایک قرآن مجید لکھتا جسے ایک سال مکہ معظمہ اور دوسرے سال مدینہ منورہ بھیجتا۔ اس کو محلات سے زیادہ ایسی عمارتیں بنانے کا شوق تھا جن سے عوام کو فائدہ پہنچے چنانچہ اس کے عہد میں 400 سے زائد مدارس، خانقاہیں ، مسافر خانے اور مساجد تعمیر کی گئیں ۔ اس نے غزنی کے شاہی محل میں ایک بہت بڑا دوا خانہ قائم کیا جہاں سے عوام کو مفت ادویات ملتی تھیں ۔ اس دوا خانے میں خصوصاً آنکھ کی بیماریوں کی بڑی اچھی دوائیں دستیاب تھیں ۔

یہ کیسے چور اور لٹیرے مسلمان حکمران ہیں جو عوام کو اتنی زبردست سہولیات دے رہے ہیں اور راتوں کو گشت کرتے ہیں پاکستان تقریباً 200 سال تک غزنی کی سلطنت کا حصہ رہا اور اس زمانے میں اسلامی تہذیب کی جڑیں مضبوط ہوئیں ۔ کوہ سلیمان کے رہنے والے پٹھانوں نے اسی زمانے میں اسلام قبول کیا اور لاہور پہلی مرتبہ علم و ادب کا مرکز بنا۔ کیا عوام کو اسلام سے متعارف کرانے والے یہ حکمران لاہور کو علم و ادب کا مرکز بنوانے والے چور اور لٹیرے تھے؟ غزنوی حکمران علم و ادب کے بڑے مربی و سرپرست تھے۔ خصوصا محمود غزنوی کے دور کے فردوسی اور البیرونی کے کارنامے دنیا آج بھی یاد کرتی ہے۔حمود غزنوی کو بار بار ہندو راجوں کی بد عہدیوں کی سزاء دینے کے لیے ہندوستان پر حملہ کرنا پڑا ۔ سلطان محمود غزنوی نے ہندستان کو فتح کر کے یہاں اسلام کا علم لہریا اس نے مساجد تعمیر کرائیں ۔ اس کے دور میں علماء و اولیا اللہ نے تبلیغ سے ہندوستان کو نور اسلام سے بھر دیا ۔ اسی بات کی طرف اشارہ کر کے قائداعظم نے کہا تھا کہ پاکستان تو اسی روز بنا گیا تھا جب پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔یہی سب زخم تھے جن کی تکلیف آج تک ہندوئوں کو ہوتی ہے اور جب تک پاکستان رہے گا یہ تکلیف ہوتی رہے گی ۔ سلطان محمود غزنوی اگر ہندوستان نہ آتے تو کبھی یہاں توحید کے ترانے نہ ہوتے۔ اسی لیے ہندوئوں کے اندر چھپا بغض و حسد اور شرک و بت پرستی کا گند سلطان کے خلاف پراپیگنڈے کی صورت میں باہر آتا رہا ہے۔ ہندو ناشرین مسلمانوں کی دل آزاری کی غرض س ایسی کتابیں شائع کیا کرتے تھے جن میں مسلمان حکمرانوں کو نہایت مکروہ شکل میں پیش کیا جاتا تھا ۔ جب انگریزوں کے ساتھ ہند وستان میں ہندو اقتدار میں شریک ہوئے تو انہوں نے برعظیم کے تمام سرکاری سکولوں میں اریخ ہند ے نام سے ایک کتاب پرھانا شروع کی جس میں مسلمان حکمرانوں او اسلامی عہد کی تاریخ سے سخت ناانصافی سے کام لیا گیا.جو لوگ یہ ہندوستانی مورخین کی تنگ ذہنیت پر لکھی گئی تاریخ پڑھ کر سلطان محمود کو لٹیرا کہتے ہیں میرا ان سے سوال ہے کے اگر یہ سونے و جواھرات کی لڑائی تھی تو مندر اور راجوںکی بے انتہا پیش کش کو سلطان نے کیوں ٹھکرایا ؟
خوبصورت سے خوبصورت لڑکیاں سلطان کو پیش کی گئی
کیوں ٹھکرا دی گئی؟
جب ایک بندہ ڈاکو ھوتا ھے تو لازمی ہے کے وہ اور غلط کام بھی کرے گا .جائز نا جائز کا فرق نہیں کرے گا
اور سلطان کی تو ھندوستان پر 17 حملوں کے وقت میں سترہ بیٹیاں بھی پیدا ھوئی تھی تو بیٹے کی خواہش میں وہ ان ہندوں سے خوبصورت لڑکی نھیں لے سکتا تھا؟
افسوس تو مجھے اسی بات پر ھوتا ھے کہ جب ھم اپنے اسلاف کے بارے میں جاننے کے لئے ان کے دشمنوں کی کتابوں سے تاریخ پڑھتے ھیں تو ایسے ھی لوگ اور ذھنیت سامنے اے گی۔
جواب یہ ھے کہ متھرا میں ایک دفعہ موسم کی وجہ سے سلطان کو شکست بھی ھوئی تھی
اور یہ مندر اور اس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ ناقابل تسخیر ھے
اس پر لگا جھنڈا ھندوں کی نشانی تھی کہ یہ کبھی فتح نھیں ھوسکتا
بد عقیدہ مسلمان بھی اس بت کو دیکھ کر ایمان ڈگمگاتا تھا
اگر سونا چاندی کمزوری تھی
لہذا ہندو کی کتاب پڑھ کر سلطان کو لٹیرا ثابت کرنے والے راجہ داہر کی پالیسی مت اپنائیں.

سلطان محمود غزنوی نے دنیا میں تینتیس 33 سال حکومت کی اور اس وقت کا دنیا کا شجاعت اور دنیا پر اثر و رسوخ رکھنے والا دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا۔ پہلے نمبر پر چنگیز خان تھا دوسرے نمبر پر محمود غزنوی تھا تیسرے نمبر پر سکندر یونانی تھا چھوتھے پر تیمور لنگ تھا اور یہ دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا سلطان محمود غزنوی۔ 410 ہجری میں سلطان محمود غزنوی کی وفات ہوئی اور دنیا پر تینتیس سال حکومت کی ہے یہ واقعہ سچا اور انفرادی حثیت رکھتا ہے۔کہ 1974 میں شہر غزنوی میں زلزلہ آیاجس سے سلطان محمود غزنوی کی قبر پھٹ گئی اور مزار بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تو اس وقت کے افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم نے دوبارہ مزار کی تعمیر نو کی اور قبر کو مرمت کروایا۔ تعمیر کے مقصد کے لئے قبر کو پورا کھول دیا گیا کیونکہ قبر نیچے تک پھٹ گئی تھی جب قبر کو کھولا گیا تو قبر کے معمار اور قبر کی زیارت کرنے والے حیران رہ گئے کہ قبر کے اندر سے ہزار سال سے مرے ہوئے اور تابوت کی لکڑی صحیح سلامت ہے سب لوگ حیران اور حیرت کا شکار ہوگئے تابوت صحیح سلامت ، ہزار سال گزرنے کے باوجود ، حکام نے تابوت کو کھولنے کا حکم دیا تو جس آدمی نے کھولا تو پلٹ کر پیچھے گرا اور بےہوش ہوگیا تو جب پیچھے لوگوں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ سلطان جو تینتیس سال حکومت کرکے مرا اور مرے ہوئے ہزار سال گزر چکے ہیں وہ اپنے تابوت میں ایسے پڑا تھا جیسے کوئی ابھی اس کی میت کو رکھ کے گیا ہے اور اس کا سیدھا ہاتھ سینے پر تھا الٹا ہاتھ اور بازو جسم کے متوازی سیدھا تھا اور ہاتھ ایسے نرم جیسے زندہ انسان کے ہوتے ہیں اور ہزار سال مرے بیت چکے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے ایک جھلک دیکھائی کہ جو میرے محبوب کی غلامی اختیار کرتے ہیں وہ بادشاہ بھی ہو گئے تو وہ اللہ کے محبوب بن کے اللہ کے پیارے بن کے اللہ کے دربار میں کامیاب ہو کر پیش ہوگے۔زندگی مختصر ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے وقت کے آگے طاقت ور سے طاقت ور بادشاہ کمزور اور بے بس ہے وقت کو کوئی نہیں روک سکتا لیکن وقت پر جس شخص نے اللہ کی مخلوق کی بہتری، بھلائی اور اللہ کی خوشنودی کو مقدم رکھا وہی شخص مرنے کے بعد بھی لافانی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *