کائنات کا سب سے بڑے سائز کا سورج دریافت کر لیا گیا-بنا پیراشوٹ زمین پر گرنے والے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ؟

Image

You must need to login..!

Embed Code

Description

سپیس یعنی خلا ایک بہت ہی پراسرار اور حیرت انگیز جگہ ہے جس کے بارے میں ہم جتنا بھی جان لیں اتنا کم ہے .اسکے بارے میں ایسے راز ہیں جس کے بارے میں انسان تصور بھی نہیں کر سکتا .ہم انسانوں کی زمین ہی اتنی بڑی ہے کہ یونیورس کے مقابلے اسکا سائز ایک ایٹم کے برابر بھی نہیں ہے .یعنی یوں کہیں کہ سپیس میں ہر چیز ممکن ہے یہ ہمیں بتاتا ہے کہ جو ہم جانتے ہیں وہ بہت کم ہے یہ کبھی نا ختم ہونے والی پہلی جیسی ہے . سوائے اسکہ انہی رازوں کے بارے میں شوکنگ قسم کے فیکٹس اور سپیس میں جانے والے لوگ جب زمین پر واپس آتے ہوے خلا سے زمین پر گرے تو انکے ساتھ کیا ہوا یہ سب آج کی اس پوسٹ میں ہم جانیں گے جسے آپ کبھی بھی مس نہیں کرنا چاہیں گے ۔
اگر آسمان پر نظر دوڑائیں تو سب سے بڑی چیز جو ہمیں نظر آتی ہے وہ ہے ہمارا سورج جو ہماری زمین کے مقابلے 13 لاکھ گنا بڑا ہے یعنی ہماری زمیں جیسی 13 لاکھ زمینیں مل کر سورج کے جتنا بڑا سائز بناتی ہیں.اسکا ماس ہمارے ٹوٹل سولر سسٹم کا 6 ٩٩.8 پرسینٹ ہے .مگر حقیقت تو یہ ہے کے یونیورس میں سورج سے اربوں کھربوں گنا بڑے ستارے موجود ہیں جن کے سامنے ہمارے سورج کا وجود بالکل نظر آنا ہی ختم ہو جاتا ہے .تو کیا اپ امیجن کر سکتے ہیں کہ اب تک ڈسکوور ہونے والا جائنٹ ستارہ آخر کتنا بڑا ہوگا ، سائنس دان اے روز یونیورس اور اسٹارز سے متعلق نت نی کھوجیں کرتے رہتے ہیں اور اب تک ڈسکوور شدہ سب سے بڑے ستارے کا نام ہے یو وائی سکوٹی جسے سپیکٹرم ماڈلنگ سے سال 1970 میں ڈسکوور کیا گیا اور ٢٠٢٠ یعنی 50 سال تک سب سے بڑے سورج ہونے کا اعزاز اسی کے سر رہا جو کے ہمارے سورج کے ریڈیس 1700 گنا بڑا ہے .اور کل ڈایا میٹر 2.3 ارب کلومیٹر مگر حال ہی میں یوروپین سپیس ایجنسی کے جی ایس آئی ایس آبزرویٹری کے مطابق اسکا سائز جو پہلے ہمارے سورج سے 1700 گنا زیادہ تھا وہ اب صرف 700 گنا ہی رہ گیا ہے .جہاں اسکی زمین سے اور دوسری نو ہزار پانچ سو مانی جاتی تھی وہ بھی کم ہو صرف پانچ ہزار ایک سو کلومیٹر تک رہ گئی ہے . یعنی اپنے ماس کے ساتھ ساتھ یہ پوری کائنات کے سب سے بڑے ستارے کا اعزاز بھی کھو چکا ہے جسکی جگہ سٹہ نسن 2 18 نے لے لی ہے جسے او ایس جی سی 2 18 بھی کہتے ہیں جو ایک ڈیویلپرز ریڈ جائنٹ ہے اور ایک اوپن کلسٹر میں موجود ہے ۔ اور یہاں ١٠٠ سے لے کر ہزاروں سٹار ایک ہی نے بولا میں موجود ہو سکتے ہیں .یہ ہماری زمین سے 20 لائٹ سال دور سکروٹم یا ستاروں کے جھرمٹ کون سٹی لیشن میں موجود ہے جسے ڈیپ انفراریڈ ریز کے ذریعے ١٩٩٠ میں دریافت کیا گیا یہ ہمارے سورج کے مقابلے ریڈیس 2150 گنا بڑا ہے اور چار لاکھ چالیس ہزار گناہ زیادہ برائٹ جسے اگر ہمارے سورج کی جگہ سولر سسٹم میں رکھ دیں تو اپنی روشنی اور حرارت کی شدت سے ہی ہر پلانٹ کو جلا کر رکھ دیگا کیوں کے اسکا سرفیس درجہ حرارت 2926 ڈگری سیلسیس ہے جو اپنی جوانی میں موجود ہیں یعنی اس کی عمر صرف ٢ کروڑ سال تک ہی ہو سکتی ہے .

ہماری زمین سے تقریبا ١٠٠ کلومیٹر اوپر خلا یا سپیس شروح ہو جاتی ہے کمرشل جہاز تقریبا 10 سے ١١ کلومیٹر کی اونچائی پر ہی پرواز کرتے ہیں مگر کیا اپنے کبی سوچا کہ اگر کوئی شخص سپیس سے زمین کی طرف بنا پیراشوٹ کے گرے تو اسکا کیا حال ہوگا . یہ باقیات جو اپ دیکھ رہے ہیں ایسے ہی ایک بدنصیب رشین ایسٹرو نامر ولادیمیرکومارو کی ہیں جو سپیس سے زمین پر ایک سپیس کیپسول سے گرا مگر بدقسمتی سے اسکا پیراشوٹ نا کھل سکا.یہ حادثہ تب ہوا
١٩٦٧ میں اسے سپیس سٹیشن کی طرف روانہ کیا گیا مگر وہاں لینڈ کرنے کی بجانے اسکے کیپسول میں فنی خرابی کی وجہ سے اس نے زمین کی طرف بڑھنا شروع کردیا زمین پر لینڈ ہوتے ہوے اسکے پیراشوٹ نے بھی کام نہیں کیا سو اپنی پوری رفتار سے یہ زمین سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا اور اسکی یہ باقیات رہ گیں۔ ولادیمیر کو مارو کے آخری الفاظ بہت غصے کی حالات میں یہ تھے. یہاں بہت شدید گرمی ہے . تم لوگ کچھ کرتے کیوں نہیں مجھے پتا ہے کہ تم مجھے مارنا چاہتے ہو شاید وہ ابھی مرنے کے لیے تیار نہیں تھا .اسی سے ملتا جلتا حادثہ ایک انڈین ناسا اسٹرونمرکلپنا چاولہ کے ساتھ بھی فروری 1, 2003 میں ہوا جب سپیس سٹیشن میں اپنا مشن کامیابی سے پورا کرنے کے بعد جب یہ باقی 6 کریو ممبرز کے ساتھ زمین کے ایٹما سفیئر میں داخل ہونے لگیں تو گرم گیسز ایک فوم لیکیج سے انکے سپیس کیپسول کے اندر داخل ہویں اور اسے تباہ کردیا .یہ ملبہ امریکی ریاست ٹیکساس کے پاسس جا کر گرا
.جن لوگوں کو اونچائی اور ایڈونچر سے خوف آتا ہے شاہد وہ اس فوٹیج کو بھی نا دیکھ پائیں مگر یہ حقیقت ہے کہ انسان کو باز اوقات اپنی حثیت دکھانے کے لیے بہت اوپر جانا پڑتا ہے .جیسا کے زمین کی حدود سے باہر نکال کر دیکھی جا سکتی ہے .شکر ہے میری طرح یہ ہر بار اس ایونٹ کو ریکارڈ کرنے کے کیمرے کا ریکارڈ بٹن دبانا نہیں بھولا .اور دوسرا کے کسی اور پلانٹ پر جا کر لینڈ نہیں ہوگیا .ا میںجن کریں اسپیس سے اگر کوئی ہوائی جہاز گزرتا جس میں اپ سوار ہوتے تو اسے یوں زمین پر آواز کی رفتار سے بھی تیز یعنی 1361.5 کلو میٹر /گھنٹہ کی سپیڈ سے بنا کسی مشینری کے زمین پر گرتا دیکھ کر آپکا کیا الیکشن ہوتا۔
ہمارے سولر سسٹم میں پلوٹو سب سے چھوٹا یا بونا سیارہ ہے اور اہم بھی ۔ ہمارے سولر سسٹم میں موجود ہیں . اگر سائز کی بات کریں تو یہ صرف امریکہ کی چوری سے بھی کم دا میٹر رکھتا ہے اور روس کے سرفیس ایریا سے بھی .اسکی ستہ پر بھی زمین کی طرح بہت سے فولکینو اور اس کی سارفیس موجود ہیں مگر وہ زمین جیسے بالکل نہیں کیوں کے ان سے جلتا ہوا لاوا نہیں بلکے برف نکلتی ہے کیوں کے پانی ان وولکنوس میں بہت پریشر میں رہاتھا ہے اور جب یہ پریشر زیادہ بڑھ جائے تو ولکینو سے پریشر سے باہر نکلتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے اپ بہت زیادہ پانی پینے کے بعد پریشر کی وجہ سے واشروم کی طرف دور لگاتے ہیں .
کیا اپ جانتے ہیں کے اگر سپیس میں ٢ سمے میٹل سے بنی چیزیں ایک دسرے کے کونٹیکٹ میں آ جاتی ہیں تو پھر الگ نہیں ہو پاتیں اور پرمننٹ جڑ جاتی ہیں جسے کولڈ ویلڈنگ کہتے ہیں .اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کے ٢ چیزوں کے ایٹم کو نہیں پتا ہوتا کے وہ الگ الگ چیزوں کے ہیں کیوں کے زمین کی طرح خلا کے ایٹموسفیر میں ہوا اور ڈسٹ کے پارٹیکل انہیں الگ کرنے کے لیے نہیں ہوتے

ہماری زمین کے 70 پرسینٹ حصے پر پانی موجود ہے مگر کیا اپ جانتے ہیں کے سپیس میں پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ کہاں موجود ہے .ہم سے تقریبا 12 بلین لائٹ سال دور ایک بلیک ہولے جسکا نام اے پی ایم 8279+5255 ہے اور یہ سائز میں ہمارے سورج سے لاکھوں گنا بڑا ہے یہ اپنے اس پاس موجود گیسز کو بہت تیزی سے اپنی طرف کھینچ رہا ہے جس سے بہت زیادہ انرجی پیدا ہو رہی ہے جو کسر یعنی کائنات کی سب سے چمکدار روشنی کی کو پیدا کر رہی ہے ٢٠١١ میں اسی جگہ سائنسدانوں کو پانی کا اتنا بڑا سٹوریج ملا جو زمین پر موجود ٹوٹل پانی سے 140 ٹریلین گنا زیادہ ہے جو اس کے آ س پاس گھوم رہا ہے جو سیکڑوں لائٹ سال تک پھیلا ہوا ہے .
جو ملکی وے گیلیکسی سے ٣٩٠ لائٹ سال کی دوری پر ہی جس میں بہت زیادہ گیسز موجود ہیں ۔
جو رم اور رس بیریز کے فلیور کو بناتا ہے اس پورے گیس کلاؤڈ کا وژن ہمارے سورج سے ٣ ملین گنا بھاری ہے جس سے بلیونس لیٹرس الکوحل نکالی جا سکتی ہے اتنا زیادہ جو کھربوں سال تک دنیا کے تمام انسانوں کے لیے کافی ہے .
سپیس کے ساتھ اکثر جو آپکو ساؤنڈ افیکٹس یا آڈیو سننے کو ملتے ہیں وہ دراصل بس ایک فکشن ہیں کیوں کہ سپیس میں ساؤنڈ ویڈیوز ٹریول نہیں کر سکتی جی ہاں ہماری سپیس مکمل طور پر سٹیڈ ہے . اگر کسی طرح یہاں اپ بنا کسی سپیس سویٹ کے موجود ہوں تو پاس موجود شخص کو چیخنے پر بھی آپکی کوئی آواز نہیں اے گی. چاہے جتنا بھی چیخ لو پر کوئی سننے والا نہیں ہو گا .اسی لیے سائنٹسٹ ریڈیو ویوز کو استمال کرتے ہیں سپیس کی آوازوں کو سنی کے لیے جنہیں بعد میں ساونڈ ویوز کنورٹ کیا جاتا ہے .
ہم جانتے ہیں کے اسٹرائیڈ یا آوارہ سحاب ثاقب میٹلز سے بنے بڑے بڑے ٹکڑے ہوتے ہیں جو خلا میں تیرتے رہتے ہیں مگر کبھی اپنے سوچا کے یہ آخر سائز میں کتنے بڑے ہو سکتے ہیں . اب تک کا ڈسکوور شدہ سب سے بڑا ہے ۔ اور مارس اور جوپیٹر کے درمیان موجود اسٹرائیڈ کے رنگ میں موجود ہے .

ہمارے یونیورس میں کچھ بھی سٹیٹ یا روکا ہوا نہیں ہے یعنی کے یہاں موجود ہر ایک چیز ہر لمحہ حرکت کر رہی ہے .مثلا زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور سورج پورے سولر سسٹم کو لے کر ہماری گیلیکسی ملکی وے کے گرد چکر لگا رہا ہے جبکے ملکی وے 552 کلومرٹر پر سیکنڈ کی رفتار سے ہماری قریب ترین گیلیکسی اندرومیڈ ہ کی طرف بڑھ رہی ہے اور فیوچر میں اس سے ٹکرا کر ایک بڑا اسٹرکچر بنا دیگی جسے ملک امیڈا کہتے ہیں اس ٹکراؤ میں ابھی 5 ارب سال کا وقت مزید لگے گا ۔
سپیس میں اپ جتنا آگے بڑھتے جائیں یہ آپکو اتنا زیدہ پاسٹ میں لے جاتا ہے بالکل اسی ہی جیسے سورج کی روشنی کو زمین تک پھنچنے میں 8 منٹ کا وقت لگتا ہے . کیوں کے روشنی بس ١ سیکنڈ میں ٣ لاکھ کلومیٹر تک ہی ٹریول کر سکتی ہے . اور سورج سے زمین کی دوری کی وجہ سے اسے ہماری آنکھوں تک پھنچنے میں ٩ منٹ لگاتے ہیں اسی کانسپٹ کے مطابق چلیں تو جن گلیکسیز اور کرسٹل آبجیکٹس یا اسٹرکچر کو ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ ممکن ہے کے اب تک ختم ہو چکے ہوں مگر انکی پاسٹ کی لائٹ ہم تک اب پہنچی ہو . سائنسدانوں کا ماننا ہے کے اگر ہم اسی طرح یونیورس میں آگے بڑھتے جائیں تو اسکے آخری کنارے یعنی اس ٹائم کو بھی دیکھ سکتے ہیں جب بگ بینگ یا بڑا دھماکہ ہوا اور ہماری کائنات بنائی. مائنڈ بلووینبگ رائٹ ؟ یعنی زمین سے نظر انے والا آسمان دراصل آپکو پاسٹ دیکھا رہا ہے اپ ریل ٹائم میں کچھ بھی نہیں دیکھ رہے .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *