Menu

Get Socialize

کیا ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کسی طرح ممکن ہے ؟کیا کائنات صرف ایک کمپیوٹر پروگرام ہے جس میں ہم قید ہیں ؟

You must need to login..!

Embed Code

Description

آج ہم انسانوں کو لگتا ہے کے شاید ہماری سائنس اس قدر جدید ہو چکی ہے کہ ہماری اس دنیا اور کائنات سے متعلق تقریبآ ہر چیز کو لو جی کلی اور سائنٹیفیکلی تجربات سے ثابت کر سکتے ہیں .کیوں کے یہ سچ ہے کے انسانوں نے جتنا سائنس میں ترقی پچھلے ١٠٠ سالوں میں کی ہے اتنا پوری انسانی تاریخ میں نہیں کی اور یہی وجہ ہے کے آج ہماری رسائی زمین کی گہرایوں سے لےکر آسمان کی لا محدود دوریوں تک پہنچ چکی ہے مگر کیا آ پ جانتے ہیں کہ انسانی زندگی اور تاریخ سے ہی متعلق ایسے بہت سارے بنیادی سوال ہیں جن کا آج بھی کوئی جواب یا وضاحت سائنس کے پاس نہیں ہے .نا ہی اس پر کوئی تھیوریز عقل کو تسلیم کرتی ہیں اور نا ہی انہیں تجربات سے ثابت کرنا ممکن ہے. ان میں سے زیا دہ تر سوال ایسے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانی زندگی کا وجود محض ایک حادثہ نہیں ہے اور اسے پیدا کرنے والی اور ایک ترتیب شدہ سوچا سمجھا زمین اور آسمان کا اسٹرکچر تیار کرنی والی ذات اس کائنات میں کہیں موجود ہے جو اپنی موجودگی کا احساس ان نیشانیوں کے ذریعے ہمیں کروا رہی ہے .سو آج کی اس ویڈیو میں ہم ایسے ہی چند بیسک سوالوں کے بارے میں جانیں گے جن کا سائنس کے پاس اب تک کوئی جواب نہیں۔زمین پر زندگی کی شروعات کیسے ہوئی۔
آج ہماری زمین لاتعداد درختوں جانور پرندے کیڑے مکوڑوں اور اربوں انسانوں کا گھر ہے جو پیدائش کے عمل سے اپنی نسل کو ہر وقت آگے بڑھا رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ زندگی کی شروعات اس زمین پر آخر ہوئی کیسے ۔ مگر سب سے اہم سوال کے ان جانداروں میں سب سے پہلا ڈی این اے یا آر این اے کیسے بنا یعنی آرگینک مالیکیولز جہنوں نے زمین پر موجود جانوروں اور انسانوں جیسی کمپلیکس اور سمجھدار لائف سٹارٹ کی انہیں ڈی این اے کی صورت میں کس نے حکم دیا کے ان سیلز کو کون سا جاندار بننا ہے .کیوں کے ڈی این اے ایک بنیادی بلڈن بلاک ہے کسی بھی جاندار کا یہی سیلز کو بتاتا ہے کے اسے ایک انسان کا بچا پیدا ہونا ہے یا کسی جانور کا .جو کے ایک کوڈ کی صورت ہر جاندار اور انسان اپنے ماں باپ سے وراثت میں حاصل کرتے ہیں. لکن سائنس یہ نہیں جانتی کے یہ اتنی ترتیب شدہ انفارمیشن ڈی این اے کی صورت آخر کس نے ان ایک سیل والے سمندری جانوروں میں ڈالی۔

سائنس کا آج یہ بھی ماننا ہے کے ممکن ہے زندگی پودوں میں موجود انگریڈینٹ مثلان کاربن ہائیڈروجن آکسیجن اور دوسرے زمین میں پانے جانے والےایلمنٹس کے پرفیکٹ کمبینیشن یا ملاپ کا نتیجہ ہو یعنی جیسے یہ پودوں کو زندگی دے رہے ہیں ویسے ہی انسانی لائف کو سٹارٹ کیا ہو. جس پر وہ لبورتریس نے خود سے تجربات کر کے اور ویسا ہی ماحول تیار کر کے ایک سمپل سیل کو تیار کرنا چاھتے ہیں مگر اس میں اب تک کامیابی نہیں ملی کیوں کے غیر جاندار چیزوں سے جاندار چیز کو بنانا ممکن ہی نہیں ۔
یا پھر کچھ سائنس دان یہ بھی ما نتے ہیں کے ممکن ہے کے زندگی کسی اور خلائی مخلوق کے تجربات کا نتیجہ ہے جو کبھی ہماری زمین پر ای اور لائف سٹارٹ کرنے والے کچھ بیکٹیریا کو چھوڑ کر واپس چلی گی جیسا کے پرومو تہس جیسی فلموں میں دکھایا گیا ہے .اسکے علاوہ کوئی اسٹرائیڈ یہ خلائی پتھر بھی انکے مطابق اپنے ساتھ زمین پر یہ لائف سٹارٹ کرنے والا بیکٹریا لا سکتا ہے مگر اس کے اند مختصر جواب یہ کے ہم اب تک نہیں جانتے کے اسکا جواب کیا ہے کیوں کے ہم اتنا سمجھدار اب تک نہیں ہوے کے خدا کی اس نشانی کا مشائدہ اپنی آنکھوں سے کر سکیں۔
جہاں تک ہر ایک جاندار کی بات ہے تو یہ بات بالکل سچ ہے کے ان کی شروت پانی سے ہوئی اور ایک سیل والے جاندار سے تمام جانور پودے اور کیڑے مکوڑے جو آج ہم دیکھتے ہیں پیدا ہوے . اور یہ میں نہیں بلکے قرآن کہتا ہے
سورۃ نور آیت۔ 45 ۔
اور الله ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ تو اس میں بعضں ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بےشک الله ہر چیز پر قادر ہے.یعنی
اس پھلے جاندار کو پیدا ہونے کا حکم الله تعالی کی ذات نے دیا کیوں کے پیدا کرنا صرف خدائی صفت ہے یہ ان صفات میں سے ہے جو انسان کے لیے نا ممکن ہے ورنہ خالق اور مخلوق کا فرق ختم ہوجای گا .
جبکہ انسانوں کے معاملہ مختلف ہے اس کے ماں باپ جہاں سے انکا ڈی این اے یعنی انسانی زندگی کے آگے بڑھنے کا آغاز ہوا وہ حضرت آدم اور اماں ہوا سے ہوا جو انسانوں کے اصل ماں باپ ہیں

کیا سائنس یہ سب ثابت کرنے کے لیے اب وقت میں پیچھے جائے گی؟
نمبر ٢ کیا ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر ممکن ہے .اگر سائنس فکشن کونسپٹس کی بات کی جائے تو ان میں ٹائم ٹریول سب سے اہم ہے .کیوں کے ظاہر ہے یہ تصور کرنا ہی کتنا ایکسائٹمنٹ سے بھر دیتا ہے کے ہم وقت میں پیچھے جا کر اپنے پیدا ہونے سے پھلے کا وقت یا ہزاروں سال پھلے کی انسانی تاریخ کو آنکھوں سے دیکھ سکیں .یا مستقبل میں ہونے والے تمام واقعات سے پھلے سے خبردار ہوجائیں اور اسکی تیاری ابھی سے شروح کر دیں . مگر سوال یہ ہے کے اگر اس ممکن ہے تو اب تک کوئی ٹائم ٹراولر سامنے کیوں نہیں آیا
کیا اب تک فیوچر کی سائنس بھی اتنا جدید نہیں ہوئی کے ایسا کر پے یا فٹ انھیں ہمارے اس ٹائم میں انے کا انٹرسٹ ہی نہیں ،یا پھر اس ممکن ہی نہیں
اس کے پاس اسکا کوئی جواب نہیں مگر بہت سی تھیوریز موجود ہیں جن کو ٹائم ٹرولنگ ممکن ہو سکتی ہے مثلان وارم ہول جسکا آئیڈیا آئنسٹائن نے اپنی تھیوری آف جنرل ریلیٹیوٹی آف جنرل ریلیٹیوٹی میں دیا کے کائنات میں ایسے اسٹرکچر میں بھی موجود ہو سکتے ہیں جو ایک پائپ کی طرح ٢ سرے رکھتے ہیں ایک سے داخل ہو کر ہم وقت میں آگے یہ پیچھے جا سکتے ہیں کیوں کے یہ ٢ مختلف سپیس ٹائم کو آپس میں جوڑتے ہیں مگر اب تک کوئی وارم ہول ڈسکوور نہیں کیا گیا جو اسے ثابت کر سکے
یا اگر ہم کسی طرح سپیڈ اف لائٹ حاصل کر لیں تو ہمارے لیے وقت بہت آہستہ ہوجای گا یہ روک جے گا جبکے باقی دنیا کے لیے وقت نارمل کھلتا رہے گا ، اسکے علاوہ بلیک ہولز کے ایونٹ ہوریزون کے پاس یا اسکے اندر جا کر بھی وقت میں سفر ممکن ہو سکتا ہے مگر کوئی اسے ثابت کرنے کا رسک لیے ہی نہیں سکتا اور نا ہی وہاں پہنچ سکتا ہے .مزید سائنس سٹرنگ تھیوریز کا آئیڈیا بھی پیش کرتی ہے جسے سٹفوں ہاکنگ نے پیش کیا کے ہمارے اس پاس چھوٹی چھوٹی سٹرنگز ہر وقت وائبریٹ ہوتی رہتی ہیں جو ایٹم سے بھی چھوٹے نیوٹرون اور پروٹون اور ان سے چھوٹے کوئی کس اور ان سے بھی چھوٹی یہ سٹرنگز ہیں جن تک رسائی حاصل کر کے وقت میں سفر ممکن ہے مگر انہیں ثابت کرنا نا ممکن ہے

اور دوسری بات یہ کے اگر اس کبھی ممکن ہو بھی گیا تو بہت سرے پردوش جنم لیتے ہیں مثلان یہ کے انسان وقت میں آگے یا پیچھے جا کر اپنی تقدیر کے فیصے بدل دے گا کبھی حادثاتی موت مرے گا نہیں .اگر کبھی ٹائم میں پیچھے جا کر اپنےما باپ کو ملنے سے ہی روک دے .تو یا خود کو ہی پیدا ہو تے ھی مار دے تو پھر سوال یہ کے آپ زندہ کیسے ہیں .جو ٹائم ٹریول کر کے وقت میں پیچھے آے ہیں سو اسی لیے وقت پر کنٹرول صرف خدا کی ذات کے پاس ہے اور یہ ٹائم الله تعالی کی تخلیق ہے جس پر یہ لاگو نہیں ہوتا کیوں کے اسے پیدا کرنا والا خود الله ہے اسی لیے وہ انسانوں کے ماضی حال اور مستقبل سب سے واقف ہے مگر سائنس کے پاس نا تو اسکا کوئی جواب ہے اور نا ہی کوئی وضاحت۔ اس کائنات کا کوئی آخری کنارہ بھی ہے ، اس میں آخر کتنے ستارے ہیں ، کیا ہم اس پوری کائنات میں اکیلے ہیں یا پھر ہمارے جیسی کوئی اور مخلوقات بھی موجود ہیں
ہماری یونیورس کتنی بڑ ی ہے اسکی حد یا کنارہ کہاں ہے یہ سائنسدانوں کے لیے ایک ایسی پہیلی ہے جسکا کوئی جواب نہیں کیوں کے یہ واحد ایک ایسی چیز ہے جسے انفینٹی یا لا محدود کہ سکتے ہیں اور ہر لمحہ یہ سپیڈ اوف لائٹ سے مزید پھیل رہی ہے . یہ پھیلاؤ اس وقت شروع ہوا جب اس کائنات کی ہاروت کرنے والا دھماکہ ہوا جسے بگ بینگ کہتے ہیں اور کسی غبارے کی طرح یہ اس وقت سے مسلسل پھیل رہی ہے ایک وقت اے گا کے یہ پھر سے سمٹ کر اسی نقطے میں سما جائے گی جس بگ کرنچ تھویرے کہتے ہیں ان دونوں کا ذکر قرآن میں واضح طور پر کیا گیا ہے سو یہ دونوں سائنسی نظریات حقیقت ہیں مگر سائنس یہ نہیں بتا سکتی کے یہ آخر کتنا پھیل چکی ہے ایک اندازہ ہے کے جس کائنات کے حصے کا ہم مشائدہ کر چکے ہیں وہ 93 بلین سال تک پھیلی ہے . ایک لائٹ سال تب ہو تا ہے جب ہم سپیڈ اف لائٹ یعنی ٣ لاکھ کلومیٹر پر سیکنڈ کی سپیڈ سے ٹریول کریں .مگر اصل یونیورس کتنی ہے یہ الله تعالی کی ذات ک سوا کوئی نہیں جانتا جس نے اسے پیدا کیا اور لڑ لمحہ اسکا نظام چلا رہا ہے .

میکسیکو میں موجود ایک پوویرفلل ٹیلی سکوپ سے یونیورس کا مشائدہ کرنے کے بعد 12 لاکھ گگیلیکسی کا ایک نقشہ انکی پوزیشن کے حساب سے تیار کیا جس کے مطابق ہماری یونیورس فلیٹ ہے یہ گول یہ سفریکل نہیں ہے مگر کیا یہ فلیٹ یونیورس کا کوئی کنارہ بھی ہے ؟
ایک اندازے کے مطابق صرف ہماری گیلیکسی ملکی وے جو ایک لاک لائٹ سال تک پھیلی ہے اس میں زمین پر موجود ریت کے زاروں سے بھی زیادہ ستارے موجود ہیں مگر اصل میں پوری یونیورس میں کتنے ہیں اور کیا ان کے پاس گھومتے کسی سہارے پر زمین کے جیسی کوئی زندگی بھی موجود ہے۔ اس بارے میں بھی سائنس دان خاموش ہیں انہیں کوئی اندازہ تک نہیں ہے کیوں کے آج تک ایسے کوئی ثبوت ملی ہی نہیں جنہیں بنیاد بنا کر الین لائف کا دعوه کیا جا سکے، سو یہ سوال کے کیا ہم اکیلے ہیں اسکا جواب ہاں میں ہو یا نا میں دونوں جواب ہی ڈرا دینے والے ہیں ۔
اس یونیورس ہولوگرام
ناؤ میں سمپلے اسے سمجھننے کی کوشش کروں تو یہ سوال کے کیا جو سب ہم دیکھ رہے ہیں وہ سب حقیقت ہے .یعنی اس تو نہیں کے ہماری آنکھیں ناک کان دماغ اور عیون پورا جسم یہ سب ایک مخصوس حد میں قید ہیں اور اس سے باہر نا کچھ دیک سکتے ہیں نا سن اور محسوس کر پاتے ہیں اور یہ ہمارے اس پاس موجود لوگ تمام چیزیں مخلوقات اور ایون یونیورس اور کچھ نہیں بلکہ ایک کمپیوٹر پروگرام کی طرح ایک ہولوگرام یا دھوکہ ہیں بالکل اسی ہی جسے میٹرکس فلم میں دکھایا گیا ہے . وقت ایک ہی سمت میں آگے کیوں بڑھتا ہے ہم برھے کیوں ہو جاتے ہیں . شید بہت کچھ ایسا ہے جسے ہم اوزار تو کر رہے ہیں پر سمجھ نی پا رہے . سائنس کو نہیں پتا کے حقیقت یا ریالٹی کیا ہے کیوں کے وہ جتنا فزکس کی گہرائی میں جاتے ہیں ان کے لیے مزید ایسی پہیلیاں کھلتی جاتی ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ان کیوں کے ملتی ورثے تھیوری یہ بتاتی ہے کے ہماری اس کائنات جیسی کی اور کائنات ایک ستہ موجود ہیں .بالکل ایک تسبیح کے دانوں کی طرح جڑے ہوے مگر حقیقت کیا ہے وہ نہیں جانتے .
اور اسکی وجہ یہی ہے کے الله تال انسان کو اپنی اوقات اور اور اپنی قدرت کی نشانیاں دکھانا چاہتا ہے کے سمجھ جاؤ کے تم کوئی حدسے آیا تجربے کا نتیجہ نہیں ہو . میری ذات وجود رکھتی ہے۔
یہ بھی سچ ہے کے انسان کی سائنسز کو دنیا میں محدود کر دیا گیا ہے ہماری آنکھیں مخصوس ویو لینتھ سے کم یا زیادہ دیکھ نہیں سکتیں کان بھی مخصوص فریکوئنسی سے کم یا زیدہ نہیں سن سکتے مگر کچھ جانور اس کر سکتے ہیں .اسکے علاوہ جنات بھی اس دنیا میں موجود ہیں جھین ہم دیکھ نہیں سکتے آپکے ہاتھ میں موجود فون جو ایکترومگناٹک ویوز کے ذرے آوازوں کو پہنچتا ہے . بلو ٹوتھ مائکروویو ایکس ریز گریوٹی ٹائم یہ سب کچھ موجود ہے مگر نظر نہیں آتا .یا ہم سمجھ نہیں سکتے۔
زمین پر جانوروں کی کتنی نسلیں موجود ہیں
کیا اپ جانتے ہیں کے ہم اب تک تقریبن جانوروں اور پودوں کی کل 15 لاکھ کے قریب سپیشیز کے بڑے میں جانتے ہیں جو ٹوٹل کا صرف 15 پرسینٹ ہیں .مگر ایک اندازے کے مطابق یہ ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں.جن میں سے صرف 20 لاکھ جانوروں کی ہیں .جن میں سے زیادہ تر سمندروں میں موجود ہیں جسے ہمنے آج تک 5 پرسینٹ سے زیدہ ےشپلوڑے ہی نہیں کیا ،مسلان سب سے گہرے سمندری حصے مرینہ ترنچ جو ١١ کلومیٹر گہرا ہے میں پہلی بار سائنس کو 71 ایسی پودوں اور سمندری جانوروں کی سپیسز دیکھنے کو ملیں جن کے بڑے میں آج سے پھلے کوئی آئیڈیا نہیں تھا مسلان سنیل فشز جو پانی کے اس قدر پریشر میں موجود تھی کے اس پر 1600 ہاتھیوں کا کھڑا کر دیا جاے

مگر اصل میں انکی تعداد دنیا بھر میں کتنی ہے اسکا سائنسدانوں کو کوئی اندازہ نہیں ہے اور نا ہی لگایا جا سکت اہے کیوں کے ہر 24 گھنٹے میں ١٥٠٠ سے ٢٠٠٠ سپیسز زمین سے نا پید ہوتی جا رہی ہیں اور نی ڈسکوور بھی ہو رہی ہیں .
ہم سوتے کیوں ہیں خوب کیوں دیکھتے ہیں
نیند ایک قدرتی عمل ہے جسے انسان پیدے ہںنے سے لے کر مارنے تک پورا کرتا ہے اگر ایک شکش روز 8 غنتے نیند پوری کرتا ہے تو اسکا مطلب وہ ہاپنی زندگی کا تیسرا حصہ سو کر گزر دیتا ہے . مگر سوال یہ ہے کے کیوں . ہم سوتے ہی کیوں ہیں .اب تک سائنسدانوں کو تجربات سے صرف اتنا پتا چلا ہے کے نیند کا ایک مخصوس حصہ جسے گہری نیند کہتے ہیں اس وقت ہم جب بھی خوب دیکھتے ہیں تو دماغ میں عجیب کیمکل بدلاؤ ہںنے لگتے ہیں اور آنکھیں تازی سے حرکت کرتی ہیں جسے ریپڈ آنکھوں کی موومنٹ کہتے ہیں . مگر دماغ سوتے ہوے بھی اسی ہی ایکٹو ہوتا ہے جسے جاگتے وقت ہتا ہے تو نیند کا مقصد کیا ہے اور خوب کیا ہیں کیوں اتے ہیں کیا انکا کوئی مطلب بھی ہوتا ہے . شید یہ جسم کو اگلے دن کے کم کے تیار کرنے ک لیے یا میموری کو اسٹور کرنے کا قدرتی عمل ہے اور خوب اور کچھ نہیں بس ماضی کی یادوں کا بس ایک جھونکا ہوتے ہیں اس سے زیدہ سائنسدانوں نے آج بھی اس بارے میں کچھ نہیں جانتے یہ ان کے لیے آج بھی ایک پپہلی ہے
اس کے لیوا ہم مرتے کتوں ہیں .کینسر کا علاج کیوں ممکن نہیں
مصر کے اہرام کس نے اور کیوں بنے .کون سا ئز نیس سے ہما ری سوچیں کیسے پیدا ہوتی ہیں گریوٹی کیا ہے ، گلاس کیا ہے . ہمیں کچھ بھی کھانے سے انرجی کیسے مل جاتی ہے ، کیا ہم ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں یہ سب ایسے ہی سوال ہیں جن کا سائنسدانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ،
مگر امید ہے کے آج کی اس ویڈیو سے اور خلائی مخلوق کے تجربات کا نتیجہ ہے جو کبھی ہماری زمین پر ای اور اور لائف سٹارٹ کرنے والے کچھ بیکٹیریا کو چھوڑ کر واپس چلی گی جیسا کے پرومیتھیس جیسی فلموں میں دکھایا گیا ہے .اسکے علاوہ کوئی ایسٹر ایڈ یہ خلائی پتھر بھی انکے متابض اپنے ساتھ زمین پر یہ لائف سٹارٹ کرنے والا بیکٹریا لا سکتا ہے مگر اس کے اند مختصر جواب یہ کے ہم اب تک نہیں جانتے کے اسکا جواب کیا ہے کیوں کے ہم اتنا سمجھدار اب تک نہیں ہوے کے خدا کی اس نشانی کا مشائدہ اپنی آنکھوں سے کر سکیں
جہاں تک ہر ایک جاندار کی بات ہے تو یہ بات بالکل سچ ہے کے ان کی شروت پانی سے ہوئی اور ایک سیل والے جاندار سے تمام جانور پودے اور کیڑے مکوڑے جو آج ہم دیکھتے ہیں پیدا ہوے . اور یہ میں نہیں بلکے قرآن کہتا ہے کہ.
سورۃ نور آیت فورٹی فائیو
اور الله ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ تو اس میں بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بےشک الله ہر چیز پر قادر ہے.یعنی
اس پھلے جاندار کو پیدا ہونے کا حکم الله تال کی ذات نے دیا کیوں کے پیدا کرنا صرف خدائی صفت ہے یہ ان صفات میں سے ہے جو انسان کے لیے نا ممکن ہے ورنہ خالق اور مخلوق کا فرق ختم ہوجای گا .
جبکہ انسانوں کا معاملہ مختلف ہے اس کے ما باپ جہاں سے انکا ڈی این اے یعنیانسانی زندگی کے آگے بڑھنے کا آغاز ہوا وہ حضرت آدم اور اما ہوا سے ہوا جو انسانوں کے اصل مان باپ ہیں
کیا سائنس یہ سب ثابت کرنے کے لیے اب وقت میں پیچھے جائے گی
نمبر ٢ کیا ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر ممکن ہے .اگر سائنس فکشن کونکپٹس کی بات کی جائے تو ان میں ٹائم ٹریول سب سے اہم ہے .کیوں کے ظاہر ہے یہ تصور کرنا ہی کتنا ایکسائٹمنٹ سے بھر دیتا ہے کے ہم وقت میں پیچھے جا کر اپنے پیدا ہںنے سے پھلے کا وقت یا ہزاروں سال پھلے کی انسانی تاریخ کو آنکھوں سے دیکھ سکیں .یا مستقبل میں کا کر ہونے والے تمام واقعیت سے پھلے سے خبردار ہوجائیں اور اسکی تیاری ابھی سے شروح کر دیں . مگر سوال یہ ہے کے اگر اس ممکن ہے تو اب تک کوئی ٹائم ٹراولر سامنے کیوں نہیں آیا
کیا اب تک فیوچر کی سائنس بھی اتنا جدید نہیں ہوئی کے ایسا کر پے یا انھیں ہمارے اس ٹائم میں انے کا انٹرسٹ ہی نہیں ،یا پھر اس ممکن ہی نہیں
کہ اس کے پاس اسکا کوئی جواب نہیں مگر بہت سی تھیوریز موجود ہیں جن سو ٹائم ٹرولنگ ممکن ہو سکتی ہے مثلان وارم ہول جسکا آئیڈیا آئن سٹائن نے تھیوری آف جنرل ریلیٹیویٹی میں دیا کے کائنات میں ایسے اسٹرکچر میں بھی موجود ہو سکتے ہیں جو ایک پائپ کی طرح ٢ سرے رکھتے ہیں ایک سے داخل ہو کر ہم وقت میں آگے یہ پیچھے جا سکتے ہیں کیوں کے یہ ٢ مختلف سپیس ٹائم کو آپس میں جوڑتے ہیں مگر اب تک کوئی وارم ہول ڈسکوور نہیں کیا گیا جو اسے ثابت کر سکے
یا اگر ہم کسی طرح سپیڈ اف لائٹ حاصل کر لیں تو ہمارے لیے وقت بہت آہستہ ہوجای گا یہ روک جے گا جبکے باقی دنیا کے لیے وقت نارمل کھلتا رہے گا ، اسکے علاوہ بلیک ہولز کے ایونٹ ہارز ون کے پاس یا اسکے اندر جا کر بھی وقت میں سفر ممکن ہو سکتا ہے مگر کوئی اسے ثابت کرنے کا رسک لاۓ نی سکتا اور نا ہی وہاں پہنچ سکتا ہے .مزید سائنس سٹرنگ تھیوریز کا آئیڈیا بھی پیش کرتی ہے جسے سٹفوں ہاکنگ نے پیش کیا کے ہمرے اس پاسس چوٹی چوٹی سٹرنگز ہر وقت وائبریٹ ہوتی رہتی ہیں جو ایٹم سے بھی چھوٹے نیوٹرون اور پروٹون اور ان سے چھوٹے کو ا کس اور ان سے بھی چوٹی یہ سٹرنگز ہیں جن تک رسائی حاصل کر کے وقت میں سفر ممکن ہے مگر انہیں ثابت کرنا نا ممکن ہے
اور دوسری بات یہ کے اگر اس کبھی ممکن ہو بھی گیا تو بہت سرے فردوش جنم لیتے ہیں مسلان یہ کے انسان وقت میں آگے یا پیچھے جا کر اپنی تقدیر کے فیصے بدل دی گا کبھی حادثاتی موت مرے گا نہیں .اگر کبھی ٹائم میں پیچھے جا کر اپنےما باپ کجو ملنے سے ہی روک دے .تو یا خود کو ہی پیدا ہتھے مار دے تو پھر سوال یہ کے اپ زندہ کیسے ہیں .جو ٹائم ٹریول کر کے وقت میں پیچھے اے ہیں سو اسی لیے وقت پر کنٹرول صرف خدا کی ذات کے پاسس ہے اور یہ ٹائم الله تال کی تخلیق ہے جس پر یہ لاگو نہیں ہوتا کیوں کے اسے پیدا کرنا والا خود خدا الله ہے اسی لیے وہ انسوں ے ماضی حال اور مستقبل سب سے واقف ہے مگر سائنس کے پاسس نا تو اسکا کوئی جواب ہے اور نا ہی کوئی وضاحت ۔کیا اس کائنات کا کوئی آخری کنارہ بھی ہے ، اس میں اخبر کتنے ستارے ہیں ، کیا ہم اس پوری کائنات میں اکیلے ہیں یا پھر ہما رے جیسی کوئی اور مخلوقات بھی موجود ہیں
ہماری یونیورس کتنی بڑ ی ہے اسکی حد یا کنارہ کہاں ہے یہ سائنس دانوں کے لیے ایک ایسی پہیلی ہے جسکا کوئی جواب نہیں کیوں کے یہ واحد ایک ایسی چیز ہے جسے انفینٹی یا لا محدود کہ سکتے ہیں اور ہر لمحہ یہ سپیڈ اف لائٹ سے مزید پھیل رہی ہے . یہ پھیلاؤ اس وقت شروع ہوا جب اس کائنات کی ہاروت کرنے والا دھماکہ ہوا جسے بگ بینگ کہتے ہیں اور کسی غبارے کی طرح یہ اس وقت سے مسلسل پھیل رہی ہے ایک وقت اے گا کے یہ پھر سے سمت کر اسی نقطے میں سما جائے گی جس بگ کرنچ تھویرے کھٹے ہیں ان دونو کا ذکر قرآن میں واضح طور پر کیا گیا ہے سو یہ دونوں سائنسی نظریات حقیقت ہیں مگر سائنس یہ نہیں بتا سکتی کے یہ آخر کتنا پھیل چکی ہے ایک اندازہ ہے کے جس کائنات کے حصے کا ہم مشائدہ کر چکے ہیں وہ 93 بلین سال تک پھیلی ہے . ایک لائٹ سال تب ہو تا ہے جب ہم سپیڈ اف لائٹ یعنی ٣ لاکھ کلومیٹر پر سیکنڈ کی سپیڈ سے ٹریول کریں .مگر اس سے بھی اس لیے یونیورس کا پتہ نہیں لگتا کہ کتنی ہے یہ الله تعالی کی ذات ک سوا کوئی نہیں جانتا جسنے اسے پیدا کیا اور لڑ لمحہ اسکا نظام چلا رہا ہے ۔ میکسیکو میں موجود ایک پوویرفلل ٹیلی سکوپ نے یونیورس کا مشائدہ کرنے کے بعد 12 لاکھ گگیلیکسی کا ایک نقشہ انکی پوزیشن کے حساب سے تیار کیا جس کے مطابق ہماری یونیورس فلیٹ ہے یہ گول یہ سفریکل نہیں ہے مگر کیا یہ فلیٹ ہے یا اس یونیورس کا کنارہ بھی ہے ؟
ایک اندازے کے مطابق صرف ہماری گیلیکسی ملکی وے جو ایک لاک لائٹ سال تک پھیلی ہے اس میں زمین پر موجود ریت کے زاروں سے بھی زیادہ ستارے موجود ہیں مگر اصل میں پوری یونیورس میں کتنے ہیں اور کیا ان کے پاس گھومتے کسی سہارے پر زمین کے جیسی کوئی زندگی بھی موجود ہے اس بارے میں بھی سائنس دان خاموش ہیں انہیں کوئی اندازہ تک نہیں ہے کیوں کے آج تک ایسے کوئی ثبوت ملا ہی نہیں جنہیں بنیاد بنا کر الین لائف کا دعوه کیا جا سکے، سو یہ سوال کے کیا ہم اکیلے ہیں اسکا جواب ہاں میں ہو یا نا میں دونوں جواب ہی ڈرا دینے والے ہیں
اس یونیورس کو ہولوگرام
ناؤ میں سمپلے اسے سمجھنے کی کوشش کریں تو یہ سوال کے کیا جو سب ہم دیکھ رہے ہیں وہ سب حقیقت ہے .یعنی اس تو نہیں کے ہماری آنکھیں ناک کان دماغ اور عیون پورا جسم یہ سب ایک مخصوس حد میں قید ہیں اور اس سے باہر نا کچھ دیکھ سکتے ہیں ناسن اور محسوس کر پاتے ہیں اور یہ ہمارے اس پاس موجود لوگ تمام چیزیں مخلوقات اور ایون یونیورس اور کچھ نہیں بلکہ ایک کمپیوٹر پروگرام کی طرح ایک ہولوگرام یا دھوکہ ہیں بالکل اسی ہی جسے میٹرکس فلم میں دکھایا گیا ہے . وقت ایک ہی سمت میں آگے کیوں بڑھتا ہے ہم بڑے کیوں ہو جاتے ہیں . شاید بہت کچھ ایسا ہے جسے ہم ابزارو تو کر رہے ہیں پر سمجھ نہیں پا رہے . سائنسدانوں کو نہیں پتا کے حقیقت یا ریالٹی کیا ہے کیوں کے وہ جتنا فزکس کی گہرائی میں جاتے ہیں ان کے لیے مزید ایسی پہیلیاں کھلتی جاتی ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ان کیوں کے ملتی ورثے تھیوری یہ بتاتی ہے کے ہماری اس کائنات جیسی کی اور کائنات ایک ستہ موجود ہیں .بالکل ایک تسبیح کے دانوں کی طرح جڑے ہوے مگر حقیقت کیا ہے وہ نہیں جانتے .
اور اسکی وجہ یہی ہے کے الله تال انسان کو اپنی اوقات اور اور اپنی قدرت کی نشانیاں دکھانا چاہتا ہے کے سمجھ جاؤ کے تم کوئی حدسے آیا تجربے کا نتیجہ نہیں ہو . میری ذات وجود رکھتی ہے ۔

Handsome man sleeping in his bedroom. Man sleeping with alarm clock in foreground. Serene latin man sleeping peacefully.

یہ بھی سچ ہے کے انسان کی سنسز کو دنیا میں محدود کر دیا گیا ہے ہماری آنکھیں مخصوس ویو لینتھ سے کم یا زیدہ دیکھ سکتے ۔ کان بھی مخصوص فریکوئنسی سے کم یا زیدہ نہیں سن سکتے مگر کچھ جانور اس کر سکتے ہیں .اسکے علاوہ جنات بھی اس دنیا میں موجود ہیں جنہیں ہم دیکھ نہیں سکتے آپکے ہاتھ میں موجود فون جو الیکٹرومیگنیٹو ویوز کے ذریعے آوازوں کو پہچانتا ہے . بلو ٹوتھ مائکروویو ایکس رےز گریوٹی ٹائم یہ سب کچھ موجود ہے مگر نظر نہیں آتا .یا ہم سمجھ نہیں سکتے
نمبر 5
زمین پر جانوروں کی کتنی نسلیں موجود ہیں
کیا اپ جانتے ہیں کے ہم اب تک تقریبن جانوروں اور پودوں کی کل 15 لاکھ کے قریب سپیسز کے بڑے میں جانتے ہیں جو ٹوٹل کا صرف 15 پرسینٹ ہیں .مگر ایک اندازے کے مطابق یہ ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں.جن میں سے صرف 20 لاکھ جانوروں کی ہیں .جن میں سے زیادہ تر سمندروں میں موجود ہیں جسے ہم نے آج تک 5 پرسینٹ سے زیدہ ےدریافت ہی نہیں کیا ،مسلان سب سے گہرے سمندری حصے مرینہ ترنچ جو ١١ کلومیٹر گہرا ہے میں پہلی بار سائنسدانوں کو 71 ایسی پودوں اور سمندری جانوروں کی سپیسز دیکھنے کو ملیں جن کے بارے میں آج سے پہلے کوئی آئیڈیا نہیں تھا مثلان سنیل فشز جو پانی کے اس قدر پریشر میں موجود تھی کے اس پر 16 سو ہاتھیوں کا کھڑا کر دیا جاے
مگر اصل میں انکی تعداد دنیا بھر میں کتنی ہے اسکا سائنسدانوں کو کوئی اندازہ نہیں ہے اور نا ہی لگایا جا سکتا ہے کیوں کے ہر 24 گھنٹے میں ١٥٠٠ سے ٢٠٠٠ سپیشیز زمین سے نا پید ہوتی جا رہی ہیں اور نی ڈسکوور بھی ہو رہی ہیں .
ہم سوتے کیوں ہیں خوب کیوں دیکھتے ہیں۔؟
نیند ایک قدرتی عمل ہے جسے انسان پیدے ہونے سے لے کر مرنے تک پورا کرتا ہے اگر ایک شکش روز 8 غنتے نیند پوری کرتا ہے تو اسکا مطلب وہ اپنی زندگی کا تیسرا حصہ سو کر گزر دیتا ہے . مگر سوال یہ ہے کے کیوں . ہم سوتے ہی کیوں ہیں .اب تک سائنسدانوں کو تجربات سے صرف اتنا پتا چلا ہے کے نیند کا ایک مخصوس حصہ جسے گہری نیند کھٹے ہیں اس وقت ہم جب بھی خوب دیکھتے ہیں تو دماغ میں عجیب کیمکل بدلاؤ ہںنے لگتے ہیں اور آنکھیں تازی سے حرکت کرتی ہیں جسے ریپڈ آنکھوں کی موومنٹ کھٹے ہیں . مگر دماغ سوتے ہوے بھی ایسے ہی ایکٹو ہوتا ہے جسے جاگتے وقت ہو تا ہے تو نیند کا مقصد کیا ہے اور خوب کیا ہیں کیوں آ تے ہیں کیا انکا کوئی مطلب بھی ہوتا ہے . شید یہ جسم کو اگلے دن کے کم کے تیار کرنے ک لیے یا میموری کو اسٹور کرنے کا قدرتی عمل ہے اور خوب اور کچھ نہیں بس ماضی کی یادوں یا اس کا بس ایک جھونکا ہوتے ہیں اس سے زیادہ سائنسدان آج بھی کچھ نہیں جانتے یہ ان کے لیے آج بھی ایک پپہلی ہے۔
اس کے علاوہ ہم مرتے کیوں ہیں .کینسر کا علاج کیوں ممکن نہیں۔مصر کے اہرام کس نے اور کیوں بنے . ہمر سوچیں کیسے پیدا ہوتی ہیں گریوٹی کیا ہے ، گلاس کیا ہے . ہمیں کچھ بھی کھانے سے انرجی کیسے مل جاتی ہے ، کیا ہم ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں یہ سب ایسے ہی سوال ہیں جن کا سائنس دانوں کے پاس کوئی جواب نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *