درجال کیسے خود کی جنت اور جہنم دکھائے گا اور مردوں کو زندہ کرے گا ؟

You must need to login..!

Embed Code

Description

ایک لمحے کے لیے تصور کریں کے آپکے ایک نارمل دن کی شراوت ہو اور اچانک سے آسمانوں میں فرشتوں کی جماعت کے ساتھ ایک نورانی چہرے والا شخص آسمان سے زمین پر اترے اور اپنے آپ کومسییحآ یا خود کو حضرت عیسی کہ کر اپنی اتات کے لیے مجبور کرے گا. وو شخص اتنا صاحب ا قدرت ہو کو انگلی کے اشارے پر آپکو جنت یا جہنم میں پہنچا دے.آپکے مردہ ما باپ یا رشتہ داروں کو آپکی نظروں کے سامنے دوبارہ زندہ کرے اور وہ گواہی دیں کے بیٹا یہی تمہارا رب یا مسیحا ہے اسکی اتات کرو . تو آپکا ر ی ایکشن کیا ہو گا ؟
یہ سب ممکنہ سورتحال سننے کے بعد اپ ایک لمحے کے لیے دنگ ضرور رہ گئے ہونگے کہ ایسے بھلا کیسے ممکن ہے . کسی ایک شخص کے پاس ایسے خدائی اختیارات ہونا نا ممکن ہے . مگر حقیقت تو یہ ہے کے ایسا نا صرف ممکن ہے بلکہ خدائی اختیارات کےحصول کے لیے جو ٹیکنالوجی آج استمال کی جا رہی ہے اسے سیون دی ہولوگرافک ٹیکنالوجی کہتے ہیں .جو بظاھر بہت سے مختلف کیمراز ڈرونز یا سیٹلائٹ کی مدد سے مل کر ایک ایسآ منظر تیار کرتی ہے جو بالکل حقیقی لگتا ہے .جیسا کے اپ اپنی سکرین پر دیکھ رہے ہیں .یہ دبئی اور مختلف یورپیان ممالک میں دکھایا جانے والے ہولوگرافک شو کی ایک جھلک ہے جو اپنے صرف تجرباتی مراحل کی طاقت کا ڈیمو پیش کر رہی ہے .اسی ٹیکنالوجی کو موویز میں ایک تصوراتی کریکٹر کمپیوٹر میں پیدا کرنے سے لے کر اس سے ہر من چاہا کم کروانا ممکن ہے .بس خامی یہ ہے کے اسے ہاتھ لگانے پر ہی اسکی پول کھل پا ے گی کے جس منظر کو حقیقت ما ن کر اپ کچھ لمحہ پہلے تک خوفزدہ تھے وہ محض ایک نظر کا دھوکہ تھا .اسی ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا بھر سے عجیب و گریب قسم کے بادلوں آگ کی بالز یا اڑان طشتریوں جیسے واقیعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں جو چند ہی لمحوں میں نظر سے اوجھل بھی ہوجاتے ہیں .ہلکہ یہ کوئی قدرتی اسٹرکچر ہوں تو انہیں بنننے اور ختم ہونے میں اتنا کم وقت ہرگز نا لگے. جیسا کہ مئی 2015میں چین کے شہر یووانگ نے آسمان پر عجیب و غریب قسم کے بادل اور ایک شہر آباد دکھائی دیا جو کافی وقت تک دکھائی دیا اور پھر اچانک غیب ہوگیا .اسی طرح پرتگال کے جزیرے میٹریا پر ایک روز ایک بڑی فائر بال کو دیکھا گیا جو دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے غیب ہوگی مگر اپنے پیچھے کی سوال چھوڑ گئی 2013 مین گارڈز فال کنیڈا میں آسمان میں کچھ یہ منظر دیکھا گیا

٢٠١٨ امریکی ریاست ٹیکساس کی لیک کنورے پر ایک شخص نے اچانک آسمان پر کچھ عجیب منظر دیکھا اور اسے کیمرے میں محفوظ کر لیا جو ایک فرشتے کی جسامت کی طرح دکھائی دے رہا تھا .مگر اس طرح کے لاتعداد ثبوت اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ہولوگرافک ٹیکنالوجی کا مستقبل انتہائی پراسرار اور خوفناک ہے مگر ہر بار انہیں موسمیاتی تبدیلی یا ان ایکس پلینڈڈ مسٹری کہ کر تحقیقات کے نام پر عوام کو خاموش کروا دیا گیا مگر انسانوں کے مفاد اور فایدہ میں دیکھا کر انسانوں کو آخری وقتوں میں اسی سے گمراہ کیا جائے گا جس کے بآرے میں الله کے نبی ن امت کو آج سے ١٤٠٠ سال پہلے قیامت کی نشانی اور دجالی فتنہ کہ کر خبردار کر دیا تھا تاکہ وو نا تو اس کے مکروفریب کا شکار ہو کر اسکے بہکاوے میں آ سکیں اور دوسرا آپکی امت کا آخری شخص تک ان حالات اور واقعات کو اپنی نظروں کے سامنے ہوتا دیکھے تو پہچان لے کے یہ قیامت کی نشانی ہے جی ہاں یہ سیون دی ہولوگرافک ٹیکنالوجی قرب قیامت کے بدترین فتنہ دجآ ل کا نا صرف خفیہ ہتھیار ہے بلکے اسکے آمد کے لیے مسلسل جدید ترین بنائی جا رہی ہے . جسے استعمال کرتے ہوے وہ جس بھی شخص کو چاہے گا اپنی مرضی کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے اتنے حقیقی انداز میں بنا کر دکھا سکے گا کہ اس پر یقین کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نا رہے . جو کہ اسکی فطرت ہے- اور یہاں ہمیں نبی کریم کی وہ حدیث یاد رکھنی چاہیے کے حضرت حذیفہ سے روایت ہے کے نبی کریم نے فرمایا کہ مجھے دجال سے بھی زیادہ اس بات کا علم ہے کہ اس کے ساتھ کی چیزیں ہونگی اس کے ساتھ دو نہریں جاری ہونگی ان میں سے ایک سفید پانی کی ہوگی جب کے دوسری میں بھڑکتی ہوئی اگ .اگر کوئی شخص یہ زمانہ پاےتو اسے چاہیے کے وہ اس بھڑکتی آگ والی نہر میں غوطہ لگاے اور اس میں سے پانی یپئے کیوں کے وہ ٹھنڈا پانی ہوگا .سہی مسلم
جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کے دجال کا مکمل کنٹرول ایک ایسی ٹیکنالوجی پر ہوگا جس سے وہ جنت کو جہنم اور جہنم کو جنت بنا کر انسان کو دھوکے میں ڈال کر فریب دےگا مگر آ؛الله کے رسل نے فرمایا اسکی جنت یعنی سفید پانی کی نہرحقیقت میں بھڑکتی آگ والی نہر ہو گی . ہالی ووڈ فلم انڈسٹری کا ایک دلچسپ اور خفیہ پہلو یہ بھی ہے کہ یہودی لوبی آپنی مشہور فلموں کے ذریعے اپنے مستقبل کے منصوبے اشاروں کی صورت میں لوگوں تک پوھنچا دیتی ہے تاکہ وہ وقت انے سے پہلے انکی ذہن سازی کی جا سکے .بالکل ایسا ہی کیا گیا2019 میں ریلیز ہونے والی میری وال کومیکس کی فلم اسپائیڈر مین گھر میں .جس میں فلم کے ولن جسکا نام مسٹریس ہے اسے دجال بنا کر انہی خصوصیت کا حامل دکھایا گیا جو ٹیکنالوجی کی بدولت مختلف جدید ترین ڈرون کیمرا اور سیٹلائٹ کو استمال کرتے ہوے ایک ایسا حقیقی منظر لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے جواور کچھ نہیں بلکے نظر کا دھوکہ یابس دماغ کا کھیل ہوتا ہے . کیوں کے یہ کریکٹر فلم میں جہاں ایک طرف خود کو لوگوں کا مسیحا دکھا کر انکی مدد کے لیے زمین پر حملہ اور ہونے والے الینز سے لڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہی تو دوسری طرف حقیقت یہ ہے کو وہ اس جگہ موجود ا نہیں ہے .نا ہی وو منظر حقیقی ہے نا یہ ایلینز نا ہی وہ تباہی کے مناظر . بلکے یہ سب کھیل ان ڈرون کیمرہ اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا ہے جو لوگوں کی نظر کو دھوکہ دے کر یہ منظر تخلیق کر رہے ہیں .مسٹر یو کا چارےکٹور کافی دلچسپ اور پراسرارہیں کیوں کہ اسکی حقیقت لوگوں کے سامنے ان کے در سے وہ فلم کے ہیرو یعنی سپر مین کو ذہنی طور پر ایسی اذیتیں دینا شرو کرتا ہے جسے بردشت کرنا اس کے لیے انتہائی مشکل ہے، ہر لمحہ اسکے سامنے منظر بدل رہے ہے. وہ نہیں جانتا کے اس وقت کہاں ہے اور اگلے لمحے کہاں ہوگا .اسے اسکی دوست مدد کے لیے پکارتی نظر آتی ہے مگر پھر منظر بدل جاتا ہے .یہاں تک کے اسپائیڈر مین یعنی پیٹر خود کو ہی اپنے بچائو میں زخمی کرنے لگتا ہے .اسے ان سب اذیتوں کا سامنا محض اس لیے کرنا پڑتا ہے کے وہ مسٹر یو کا جھوٹ لوگون کے سامنے لانا چاہتا ہے کے جس طرح اسنے خود کو عوام کا مسیحا دکھا کر دھوکہ دیا اور دوسرا وہ اسکے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں یعنی یہاں جھوٹ عام پبلک کو یپرسنٹ کر رہا ہے ان لوگوں کو جو اسکی حقیقت جان کر اسکی مخالفت کریں گے . اس فلم کی کہانی کو سن کر یقینآ اپ سمجھ گئے ہونگے کے یہ درحقیقت اسی ٹیکنالوجی کے مستقبل کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جسے دجال لوگوں کے سامنے خود کو انکا مسیحا اور آقا وو مولا ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا

مگر یمن والے لوگوں کو بہکا نہیں پائے گا . بلکے صرف وو لوگ انکے جھانسے میں آینگے جنکا مذہب اور سوچ صرف سائنس یا یورپ کے ریسرچ کی غلام ہے . جو ہر خدائی احکام کے پیچھے منٹک اور لاجک ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں قرانی احکامات کو محض قصے کہانیاں سمجھ کر ان میں بیان کیے گئے موجودہ حالات جو ہو بہو وقو پذیر ہو رہے انہیں محض اتفاق قرار دیتے ہیں . ذرا سوچ کر دیکھیں کے مستقبل میں ہولوگرافک ٹیکنالوجی سے کیا کچھ تخلیق کرنا ممکن نہیں . آسمان پر اپنا تخت دکھانا فرشتوں کو دجال کے روبرو حاضر دکھانا بارش برسانا زمین سے خزانے نکلتے دکھانا .. مردوں کو زندہ کرنا . سب کچھ ممکن ہے ، مگہ روو حقیقت کچھ بھی نہیں .کیوں کے مستقبل کے لیے سپیس ہولو گرافک ٹیکنالوجی پرامریکہ کینیڈا اور اسرائیل کے سائنٹسٹ مل کر کر تجرباتی طور پر سیٹلائٹ کے ذریعے کامیاب تجربات کر رہے ہیں جو زمین کے گرد موجود مثنوی سیٹلائٹس ایک ساتھ مل کر ایک جگہ فوکس کر کے من چاہے منظر کو تخلیق کر سکیں گے یعنی ایک پورے بنجر سہرا کو دریا یا ندی نالوں سبزہ اورپہاڑوں سے گھر جنت نما شہ دکھانا ممکن ہوگا .آسمان میں تقریبن 100 کم اونچائی پر سوڈیم کی تہ بچا کر اسے سکرین کے طور پر استمال کیا جاتا ہے جو سیٹلائٹ سے انے والی لہروں کو زمین کی طرف گرافکس سکرین کے طور پر بھیجتیہیں اور بلکل حقیقت بن کر من چاہا منظر آنکھوں کے سامنے موجود ہوتا ہے .بالکل ایسے ہی جیسے ڈش انٹینا کے سگنل ٹیلی ویژن سکرین تک پہنچتے ہیں

١1986 میں ایک کینیڈین صحافی سرج مونسٹ نے اس بھیانک کھیل کو کچھ اس ترہا اپنی کتاب میں ایکسپوز کیا کے ناسا کچھ خفیہ طاقتوں کے ساتھ مل کر ایک پروجیکٹ بلو بیم پر کم کر رہا ہے جسکا مقصد دنیا بھر کے لوگنو کو بیوقوف بنا کر ایک عآ لمی حقمت قائم کرنا ہے . اور جو اسکی حقیقت جان کر مخالفت کرے گا بالکل اسپائیڈر مین فلم کے ہیرو کی طرح تو اسے ذہنی اذیت اور نفسیاتی طور پر تباہ کر دیا جائے گا .انکا مزید کہاں تھا ک دنیا میں کسی الین مخلوق کا حملہ دکھا کر یا علمی حادثہ خود سے پلان کر کے لوگوں کو دہرایا جائے گا کہ ون ورلڈ آرڈر یعنی ایک علمی حکومت کا حصہ بن جائیں اور پھر ایک خوش شکل مسیحا کو بادلوں سے فرشتوں کے ساتھ اترتا دکھا کر زمین پر پہلے سے اسی صورت کے موجود فریبی شکش کو مسیحا بنا کر دکھایا جائے گا تاکہ اصلی مسیحا یا انسانیت کا نجات دہندہ یعنی عیسی جب زمین پر تشریف لائین تو انکا زیادہ وقت لوگوں کو خود کا یقین کروانے میں ہی لگ جائے . اور تب تک یہ مزید منصوبے بنا سکیں ذرا سوچ کر دیکھیں اس قدر دھوکے اور فاراب کے فتنہ میں کتنے لوگ اپنے ایمان پر قائم رہ پائیں گے یقینن مکمل یا کامل ایمان والے لوگ .خاص طور پر جب موجودہ دور کا میڈیا ہر طرح اس دور فٹن میں دجال اور اسکے پیوکروں کا دعائیں بازو بن کر اس گمراہی کو پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا. اور لوگوں کو سمجھ تک نہیں اے گی کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ. تبھی الله کے نبی نے بار بار امت کو اس فتنہ دجال سے دہرایا کے لوگو اسے بھول مت جانا اور یہ لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے پہاڑوں اور جنگلوں کا رخ کریں گے کیوں کے صرف یہی علاقے دجالی ٹیکنالوجی کے تسلط یا قبضہ سے آزاد ہونگے .مگر انسان کو الله نے اشرافل مخلوقات یعنی تمام مخلوقات سے عقل اور شعور کی بنا پر افضل بنایا ہے اس لیے اسکی ا زمائش کے لیے امتحان بھیجتے ہیں اس لیے جب وہ وقت اے گا تو یقینا خدا کی ذات ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گی ہمیں بس اس ذات پر کامل یقین اور اس شیطانی فتنہ سے پناہ مانگنے کی ضرورت ہے . اور پھر راستے اور اسباب وہ خود ہی بناتا جائے گا یہاں تک کے اصلی مسیحا دنیا میں ظہور فرما کر اس فتنہ کو ختم کریں گے جو قیمت سے پہلے مومنوں کی سب سے بڑی آزمائش ہوگی
الله ہمارے ایمان کی حفاظت کرے اور ہمیں اسی پر موت نصیب فرماے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *