تمام انسانوں کا ڈیٹا ایک جگہ سٹور کرنے والا کمپیوٹر آخرکار تیار کر لیا ؟

You must need to login..!

Embed Code

Description

جس دن سے یہ دنیا بنی ہے حق و باطل کی جنگ اسی روز سے جاری ہے . جس روز سے شیطان کو اسکے تکبر کی وجہ سے ذلیل کر کے بارگاہ الہی سے نکالا گیا اسں نے قسم کھائی کے روز قیامت تک انسان کو گمراہ کرے گا .انہیں فتنہ فساد اور کفر میں مبتلا کرے گا یہاں تک کے جہنم میں پہنچا دے.شیطان کا سب سے بڑا موہرہ اور قرب قیامت کا سب سے بد ترین فتنہ دجال کی صورت ظاہر ہوگا تاکہ سچے مومن اور منافق کی پہچان ہو سکے. یہ اتنا بدترین فتنہ ہے کے اللّہ کے رسول نے امت کو بار بار اس سے ڈرایا اور فرمایا کہ لوگو اسے بھول مت جانا.کیوں کے دجال اسی وقت دنیا میں ظاہر ہوگا جب گھر گھر اسکا ذکر ختم ہو چکا ہوگا ، لوگ اسے محض ایک فرضی کردار تصور کرنے لگیں گے.مگر ایمان والے لوگ اسکی نشانیوں سے اور ماتھے پر لکھے کافر لفظ سے اسے ضرور پہچان لیں گے اور اسکا مقابلہ کریں گے.دجال کی آمد سے قبل کے حالات انتہائی اہم ہیں جھنیں سمجھنا انتہائی ضروری ہے.کیوں کے پوری دنیا کے انسانوں کے دماغ اور سوچوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اسکے چیلے جو کے یہودی ہیں اور اسے اپنا مسیحا تصور کرتے ہیں ایک ایسا پورا سسٹم تیار کر چکے ہیں جس سے انسانوں کی ہر لمحہ جاسوسی کی جا سکے .انہیں ایک حکومت کے نیچے اکٹھا کر کے ان پر حکمرانی کی جائے .یعنی دجال کی ایک آنکھ ہر لمحہ انسانوں پر نظر رکھ کر ان کو کنٹرول کرے گی . جسکا ثبوت آج سوشل میڈیا مثلا فیس بک تواترتویٹروہاٹسپپ کو استمال کرنے والی دنیا کی 50 فیصد آبادی ہے . یہ سب کے سب کمپنیز یہودی کنٹرول کررہے ہیں .جن پر اے روز لوگوں کی پرائیویسی کو چوری چھپکے اپنے پاس اسٹور کرنے اور آگے بیچنے کے الزام لگتے رہتے ہیں کے یہ لوگ انسانوں کو پرسنل ڈیٹا
انکی پسند نا پسند وہ کہاں جاتے ہیں کیا کھاتے ہیں کیا دیکھتے ہیں حتہ کے چہرے کی شناخت تک آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور فیس ریکو گنایشن سسٹم کے ذریعے مختلف مشور ایپلی کیشنز اور آئی فون اور گوگل جسی کمپنیز ایک شناختی علامت کی طرح ہیڈ کوارٹر میں ہر لمحہ سٹور کر رہی ہیں. اس کے علاوہ یہ لوگ پوری دنیا سے ہر شخص کا اے ٹی ایم بینک اکاؤنٹ، جہاز میں سفر، تصویریں پاس ورڈ لوکیشن بات چیت کا ریکارڈ الغرض ایسی بہت سی چیزوں کا ریکارڈ رکھتے ہیں جسکا عام انسان کو اندازہ تک نہیں ہے . تو پھر اپ خود سوچیں اس کی آخر کیا وجہ ہے؟ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟اس سب کا مقصد پوری دنیا کے لوگوں کے دماغوں میں ہونے والی حرکات کو مانیٹر کرنا، ان کی مسلسل جاسوسی کرنا، ڈیٹا خفیہ ایجنسیوں کو دینا اور سب سے اہم مستقبل میں ایک ایسا سسٹم لانا ہے جس میں پوری دنیا کے بنی نوح انسان کے دماغوں میں پیدا ہونے والی ہر معمولی حرکت بھی ایک سپر کمپوٹر پر وہ جب چاہیں دیکھ سکیں. اور یہ انفارمیشن دجال کے لیے جمع کی جارہی ہے تاکہ وہ دنیا کے لوگوں کو ان کے دماغ وقت سے پہلے پڑھ کر انہیں ایسا جواب دے کہ لوگ اسے خدا ماننے پر مجبور ہوجائیں. دنیا کی اس وقت ٹوٹل ساڑھے 7 ارب آبادی کا ڈیٹا اسٹور کرنا آج سے پہلے شاید ایک جگہ پر ممکن نہیں تھا مگر گوگل نے حال ہی میں ایک اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیا کے انہوں نے دنیا کا پہلا کوانٹم کمپیوٹر تیار کر لیا ہے جو صرف 200 سیکنڈ میں وہ حساب لگایاجاسکتا ہے جسے مکمل کرنے میں موجودہ طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کو بھی 10 ہزار سال لگ جائیں گے.یہ کوانٹم کمپیوٹر، آج کے روایتی سپر کمپیوٹروں کے مقابلے میں تقریباً 1,576,800,000 گنا (ایک ارب 57 کروڑ اور 68 لاکھ گنا) زیادہ حسابی طاقت کا حامل ہے.

آج سہی مہنوں میں ہمارا دماغ حقیقی دنیا سے ہٹ کر وچول ورلڈ یاغیر حقیقی دنیا کا غلام بن چکا ہے.سمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے انسانوں کے دماغ کو اپنے سحر میں جاکر لیا ہے .جس کی بدولت شیطان کے چیلوں کی خفیہ تنظیموں کی حکومت انسانوں پر قائم ھو چکی ہے اور وہ اپنے ھر حکم کو ھم تک براہ راست پہنچا رھے ہیں. آپ اپنے اور دوسرے ملکوں میں جمہوریت یا جمہوری حکومتوں کے نظام کی بات چھوڑیں یہ سارے نظام بھی انہی کے ماتحت اور غلام ہیں. حکومتوں کا آنا جانا حکومتوں کا بننا ٹوٹنا پارٹیوں کا الیکشن کے ذریعے اقتدار میں آنا یا کچھ ملکوں میں ڈکٹیٹر شپ کے نظام قائم ھونا سب انہی کے اشاروں پر کھیل رچائے جاتے ہیں انہی کی ھلائی ھوئی ڈوریوں پر ھم سب کٹھ پتلیاں بن کر ناچ رہے ہیں. یہ سارا میڈیا کسی بھی قسم کا میڈیا ھو ھر جگہ ان کے لوگ کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں. وہ بہت مضبوط ہیں بہت طاقتور ہیں اور اپنے تمام کے تمام منصوبوں میں انتہائی کامیاب کر رھے ہیں.
آج سے کچھ سال پہلے کی بات ہے ھالی وڈ کی فلموں کا ایک ڈائریکٹر ڈیوڈ کراؤلی اپنے گھر میں اپنی بیوی اور آٹھ سالہ بیٹی کے ہمراہ مردہ پایا گیا تین افراد کے اس چھوٹے سے خاندان کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا اسکا قصور بس اتنا تھا کے وہ ایک فلم ‘’گرے سٹیٹ ‘’ پر کم کر رہا تھا اور یہ ایک ڈیڑھ ماہ بعد ریلیز ہونے والی تھی لیکن فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے اس کو اس کے خاندان سمیت مار دیا گیا اس لئے وہ فلم دنیا میں کبھی نمائش کے لئے پیش نہ ہو سکی مگر آج بھی اسکا ٹریلر یوٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے اس فلم میں ایک ایسی خفیہ اور انتہائی طاقتور تنظیم کا قصہ بیان کیا گیا تھا جو خفیہ طور پر پوری دنیا پر اپنی حکمرانی قائم کئے ہوئے ہوتی ہے ۔ فلم کی کہانی کے مطابق وہ ایک ایسی ریاست ہوتی ہے جو بظاہر نظر تو نہیں آتی لیکن اس کی بالادستی پوری دنیا پر قائم ہوتی ہے ۔ ھالی وڈ کے اسفلم ڈائریکٹر کے قتل کا سراغ آج تک پولیس کو نہیں مل سکا بلکہ کہا جاتا ہے کہ پولیس نے خود ہی موقعہ واردات پے قتل کے تمام شواہد غائب کردئیے اور تمام ثبوت مٹادئیے ورنہ امریکہ جیسے ملک میں کسی مشور فلم ڈائریکٹر کے قتل میں ملوث اس کے قاتلوں کا راز نہ ملنا ناقابل یقین بات ہے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ڈیوٹ کراولی یقینآ اس گرے سٹیٹ کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتا تھا جس کی حقیقت میں حکمرانی تھی اور وہ نہیں چاہتےتھے کہ کوئی بھی انکا خفیہ منصوبہ اور ان کی حقیقت کو دنیا کے سامنےلاۓ.
ھالی وڈ کی دنیا میں اسی گرے سٹیٹ سے تعلق رکھنے والے افراد کی بالادستی ہے لیکن ان میں سے بعض فلم ڈائریکٹر ان کی حقیقت کو جان کر فلموں کے ذریعے دنیا کو ان کے بارے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ وہ ایسے فلم ڈائریکٹرز کو یا تو راستے سے ہی ہٹا دیتے ہیں یا پھر اس کا کیرئیر تباہ کر دیتے ہیں ۔ گرے سٹیٹ یا نظر نہ آنے والی شیطانی ریاست کہ بارے جاننے والے افراد اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر کسی نے ان کے متعلق لب کشائی کرنے کی کوشش کی اسے وہ زندہ نہیں چھوڑیں گے پہلی بات تو یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی میڈیا الیکٹرونک پرنٹ ہو یا انٹرنیٹ ہر جگہ پر ان کی حکمرانی ہے کسی اخبار کا صحافی یا کسی ٹیلی ویثرن چینل کا رپورٹر اگر ان کے بارے میں کچھ سامنے لانے کی کوشش کرے گا تو کوئی ٹی وی چینل یا اخبار اس کام میں اس کا ساتھ نہیں دے گا ۔ حتی کہ یہاں پاکستانی ٹی وی چینل میں سے بھی اگر کوئی ایسی کوشش کرے گا اس ٹی وی چینل یا اس پروگرامر کا مستقبل بالکل تباہ کردیا جائے گا لہذا ان کے بارے میں ان کی حقیقت سامنے لانے والا کوئی فلم ڈائریکٹر وغیرہ ہی ہو سکتا ہے جو اپنی کسی فلم کے زریعے ان کے بارے میں دنیا کو بتا سکتا ہے

ھالی وڈ میں 1988میں بننے والی ایک اور فلم جس کا نام ہے دے لائیو اس فلم میں بہت کھل کر ان خفیہ قوتوں کے بارے میں سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تسلط اس دنیا پر قائم ہے ۔ یہ ایک لاجواب فلم ہے جس میں کسی خفیہ تنظیم یا گروپ کا نامُ لئیے بغیر صدیوں سے دنیا کے انسانوں پر کنٹرول کے خواہشمند انسانوں کو بے نقاب کرتی ہے یہ فلم بھی جلد ہی منظر عام سے ہٹا دی گئی حقیقت یہ ہے کہ ھالی وڈ کی یہ واحد فلم تھی جس میں شیطانی منصوبے بنانے والے گروہوں کو بڑی خوبصورتی سے اشاروں اشاروں مےں بے نقاب کر دیا گیا تھا فلم کے آغاز میں فلم کا ہیرو کسی جگہ سے گزر رہا ہوتا ہے وہاں پے قریبی پارک میں ایک سیاہ فارم پادری پانچ چھے لوگوں کو اپنے اردگرد اکٹھا کئیے ہوئے تقریر کر رہا تھا تقریر کرتے ہوئے وہ لوگوں کو کہہ رہا تھا کہ وہ اس دنیا کے تمام انسانوں کو اپنا غلام بنا لینا چاہتے ہیں وہ دنیا سے خدا کا نام اور خدا کے ماننے والوں کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہتے ہیں اور اس دنیا کو اپنے شیطانی نظام کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں
فلم کا ہیرو اس تقریر کو محض بکواس اور فضول باتیں سمجھ کر آگے گزر جاتا ہے کچھ ہی دیر بعد ابھی وہ تھوڑا سا آگے جاتا ہے کہ اچانک ہر طرف سے پولیس کی گاڑیاں نمودار ہوتی ہیں اور اس پادری اور وہاں کھڑے لوگوں پر پولیس کی جانب سے تشدد شروع کردیا جاتا ہے وہ لوگ اپنی جانیں بچانے کی خاطر وہاں سے بھاگ جاتے ہیں ۔ فلم میں تھوڑا آگے چل کر پولیس اس چرچ پر چھاپہ مارتی ہے جہاں وہ پادری رہتا ہے اتفاق سے فلم کا وہی ہیرو اس وقت پولیس کو چرچ پر چھاپہ مارتے ہوئے دیکھتا ہے اور وہاں سے پادری کو کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ گرفتار کر کے ساتھ لے جاتے ہوئے دیکھتا ھے ۔ یہ شخص تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسی جگہ اس چرچ میں جاتا ہے اور وہاں پر اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ لوگ کسطرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہونگے کہ جس کی وجہ سے ہولیس ان کو گرفتار کر رہی ہے وہاں پر سامان کا جائزہ لیتے ہوئے اسے ایک باکس ملتا ہے جس کو تالاُلگا ہوتا ہے وہ اس بکس کے تالے کو توڑ کر باکس کی تلاشی لیتا ہے اس میں سے اسے سینکڑوں عجیب و غریب قسم کیکالے شیشے والی عینکیں ملتی ہیں

وہ ان میں سے ایک عینک اٹھا کر اپنی آنکھوں پر لگاتا ہے تو اس کے سامنے سے منظر ہی بدل جاتے ہیں دراصل یہ عینکیں ان لوگوں کی پہچان کے لئے بنائی گئی ہوتی ہیں جو انسانوں پر کنٹرول کرنے والے شیطانی منصوبوں والے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں فلم کا ہیرو وہ کالا چشمہ لگا کر چرچ سے باہر آجاتا ہے تو اب اس کے سامنے ایک نئی دنیا نظر آنا شروح ہوتی ہے. ایسی دنیا جو حقیقت ہے مگر اسکی نظروں سے چھپی ہوئی تھی
مثال کے طور پر اس کے سامنے ایک بہت بڑا بل بورڈ جو ایک سڑک کے کنارے پر لگا ہوتا ہے اس پر ایک لڑکی جو کہ کاسمیٹکس کی ایڈورٹائز فوٹو کے ساتھ موجود ہوتی ہے عینک لگانے کے بعد وہ بورڈ بہت بڑے سادہ سے تختے کے مانند نظر آنے لگتا ہے جس پر بڑے بڑے حروف میں لکھا ہوتا ہے کہ خدا کہیں پر بھی نہیں اسی طرح سے کچھ دور اگلے بورڈ پر اسی طرح ایڈورٹائزنگ کی بجائے موٹے موٹے حروف میں یہ پیغام لکھا ہوتا ہے کہ تم سب ہمارے غلام ہو جیسے ہی وہ دوبارہ چشمہ اتارتا ہے تو پھر بورڈ پر وہی ایڈورٹائزنگ والی لڑکی نظر آتی ہے حیرت کی بات یہ ہوتی ہے کہ ہر بورڈ پر جن چیزوں کی تصویریں ایڈورٹائزمنٹ کے لئےلگائی گئی ہوتی ہیں وہ کوئی اتنی اہم بھی نہیں ہوتیں اور نہ ہی ان کو خریدنے والے کوئی شوقیہ خریدار ہوتے ہیں لیکن ہر تصویر کے ساتھ کچھ عجیب و غریب الفاظ اور شکلیں ضرور بنی ہوتی ہیں اسی طرح وہ ایک شخص کو دیکھتا ہے جس کے ہاتھوں میں کرنسی نوٹ ہوتے ہیں لیکن جب وہ چشمہ لگا کر دیکھتا ہے تو وہ نوٹ سادہ کاغذ کی شکل میں ہوتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ پیسہ ہی تمہارا خدا ہے
فلم کافی دلچسپ ہے اور اس میں اشاروں ہی اشاروں میں پوری طرح ان خفیہ پیغامات کی حقیقت دکھائی گئی ہے جو ہر روزہمارے اردگرد آج بھی نظر آتے ہیں لیکن ہم ان پر دھیاں نہیں دیتے آپ ابھی بازار کو نکل جائیں بالکل کچھ اسی طرح کی صورتحال آپ کی آنکھوں کے سامنے جگہ جگہ نظر آئے گی آپ دیکھیں گے کہ سڑکوں پر مارکیٹوں میں گلیوں بازاروں میں مختلف قسم کے بہت بڑے بڑے بورڈز لگے ہوں گے جن پر کچھ چیزوں کی مشہوری کے ساتھ ساتھ عجیب و غریب اور بے معنی الفاظ نظر آئیں گے جن کا بظاہر کوئی مطلب نہیں ہوگا یا پھر بظاہر ایسی شکلیں جن کا کوئی بھی مطلب آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا وہ بنی ہوئی نظر آئیں گی مگر حقیقت میں انہیں آپکے دماغ کو کنٹرول کرنے کے لیے سوچ سمجھ کر تیار کیا گیا ہے پھر یہاں تک کے کسی فلم کسی ڈرامے کسی بچوں کے پروگرام کسی کارٹون یا فلم یا کسی بھی اخبار رسالے کو ذرا گہری نظر سے دیکھیں فلموں کے نظارے میں کرداروں کے پس منظر میں ایسے ہی عجیب و غریب نشانات نظر آئیں گے کہیں پر مخصوص قسم کی تکونیں نظر آئیں گی کہیں پر کچھ تحریریں لکھی ہوں گی کچھ الفاظ جن کے کوئی معنی نہیں ہوں گے ہر جگہ پر آپ کو نظر آئیں گے کسی بھی گانے کو دیکھ لیں اس کے بیک گراؤنڈ میں ایسا ہی سب کچھ عجیب و غریب منظر نظر آئے گا جو بلا وجہ بالکل نہیں ہے. بلکے یہ بتاتا ہے کے یہ لوگ ہر جگہ موجود ہیں

یہ پیغامات کس مقصد کے لئے ہمارے شعور میں پہنچائے جاتے ہیں آئیے اس کا مقصد بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ خفیہ پیغامات ہمارے شعور میں ہمارے ایمان کو ہمارے عقیدے کو نشانہ بناتے ہیں ہمارے ماں باپ کے بتائے ہوئے خدائے واحد کے راستے پر یقین کو متززل کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دن بدن ہم ایمان سے خالی ہوتے جا رہے ہیں ہم سب کو پتہ ہے کہ یہ دنیا فانی اور عارضی ہے اس کے باوجود ہم یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ یہیں پر رہنا ہے اور اس دنیا کی رونقیں ہی سب کچھ ہیں حالانکہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ماں باپ اور بڑوں کو قبروں میں اتارتے ہیں پھر بھی ہمیں ہمیشہ زندہ رہنے کا ایسا یقین دلا دیا گیا ہے کہ ہم سبق حاصل نہیں کرتے اور اس فانی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے زندگی گزارتے چلے جاتے ہیں جبکہ آج سے دو سو چار سو سال پہلے والی نسلوں کا ایمان ہم سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا تھا اور ان کو اس دنیا کے فانی ہونے پر کوئی شک نہیں تھا ۔ آج ہم اور ہمارے بچے اس عارضی امتحان کی جگہ کو کو ہمیشہ رہنے کی جگہ سمجھ کر دل لگا بیٹھے ہیں ۔ .. میڈیا نے انسانوں کے دماغوں پر ایسا کنٹرول جما لیا ہے اور خوف اتنا بڑھا دیا گیا ہے کہ ھر ٹی وی دیکھنے والا مکمل طور پر زھنی مفلوج ھوچکا ھے.آج میڈیا اس قدر طاقتور ہو چکا ہے کے شیطان کو بھی فرشتہ دکھانا چاہے تو اسے ایسے پیش کر سکتا ہے.اچھے کو برا اور برے کو سب سے اچھا دکھا کر انسان کو گمراہ کر سکتا ہے.تو کیا دجال کو سب انسانیت کا مسیحا اور خدا منوانے کے لیے کچھ نہیں کرے گا؟ اور یہی ہے اسکا فریب یعنی حقیقت سے پھیر کر یا لوگوں کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا.جسکی وجہ سے اسکا نام دجلل جو لفظ دجل سے نکلا ہے رکھا گیا ہے دجل کا مطلب ہی دھوکہ دینا ہے. الله تال ہمیں اس فتنے سے بچنے کی توفیق آتا فرماے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *