سوشانت سنگھ کی روح سے بات کرنے کا دعوی کرنے والا امریکن یوٹیوبر حقیقت یا فراڈ ؟

You must need to login..!

Embed Code

Description

مشور بالی ووڈ ایکٹر سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک جون 14, 2020 کو خود کشی کی خبر سن کر انکے چاہنے والے لوگ حیرت اور صدمے میں تھے کے ایسا بھلا کیسے ہو سکتا ہے کے ایک اتنا خوش مزاج نیچر رکھنے والا جوان جسکی لائف میں سب کچھ سیٹ ہو پھر بھی ڈپریشن کی وجہ سے اپنی جان لے لی .سو زیادہ تر لوگوں کا آج بھی یہی ماننا ہے کے یہ خودکشی نہیں بلکہ یہ ایک قتل تھا اور سوشل میڈیا پر اب تک لوگ اس کیس کا انصاف کرنے کے لیے اپیل کر رہے ہیں
مگر حال ہی میں ایک امریکن یوٹیوبر سٹیو ہاف کی ٢ ویڈیوز سامنے آئ ہیں جس میں وہ شیشانت سنگھ کی روح سے بات کرنے کا نا صرف دوا کرتا ہے بلکہ ویڈیو میں انہیں ریکارڈ کر کے بھی دیکھا رہا ہے .حیرات انگیز طور پر یہ سشانت سنگھ کی ہی آواز لگتی ہے جو ٹوٹے پھوٹے اندازم میں ہندی اور انگلش میں بات کر رہا ہے .سٹیو اس سے پہچانتا ہے کیا تم نے اپنی خود کی جان لی ہے تو ششانت کی روتی ہوئی آواز آتی ہے نہیں بلکہ دوستی کے نام پر میرا قتل کیا گیا ہے مگر یہ کس نے کیا اسکا نام نہیں بتایا /یہ ویڈیوز دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور انڈین ٹی وی میڈیا پر بھی اسکا ذکر ہونے لگا ،

مگر ان ویڈیوز کی حقیقت کیا ہے ، کیا واقعی کسی طرح سے روح اور روحانی دنیا سے رابطہ کرنا ممکن ہے سٹیو یہ سب کیسے کرتا ہے

سٹیو ہاف جس کا آنکھوں پر نور مل ایکٹیویٹی پر ایک یوٹیوب چینل ہے- جسکا نام پرنور مل ہے ۔ یہاں وہ اپنے سبسکرائبرز کی ریوز پر ایسی روحوں سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اب اس دنیا میں نہیں جنکا رابطہ اب اس دنیا سے ختم ہو چکا ہے اور شاہاد وہ کہیں اس وقت بھی بھٹک رہی ہیں .اس مقصد کے لیے وہ ایک الیکٹرانک گیجٹ کا استعمال کرتا ہے جو ٣ حصوں پر مستعمل ہے ایک بڑا باکس جس سے اس وقت آواز اتی ہے جب وہ سپرٹ یعنی روح بات کرتا ہے دوسرا فریکوئنسی باکس جو چھوٹے سائز کا ہے اور اس پر وہ ایک پتھر کی مدد سے اسکی ڈائریکشن ہر بار بدلتا رہتا ہے اور تیسرا کونیکٹو اس پورے سسٹم یا گیجٹ کو اسنے ایسٹرآل ٹور باکس کا نام دیا ہے یعنی روحانی دنیا میں سفر کروانے والا باکس ہے.اسکا ماننا ہی کے وہ ایسا واحد شخص ہے جو اس قابل ہے کے ایسا کر سکے اسکے پیار کی طاقت سپرٹ انرجی اور اس باکس کی انرجی کو ملا کر وہ ایسا کر پاتا ہے
سشانت سنگھ سے بات کرتے ہوے اسکی روح بتاتی ہے کے میرے اس پاس روشنی ہے یعنی میں جنت میں ہوں 6 لوگ میرے کمرے میں تھے انہوں نے میرے گلے میں ایک پٹا ڈالا مجھے کچھ پینے کے لیے مجبور کیا اورمیں اپنی فیملی اورفرینڈز کو بہت مس کررہا
سٹیو کا کہنا ہے کے یہ سب کچھ ١٠٠ پرسینٹ سچ ہے اور پہلے کی طرح جسے وو مچل جیکسن کی روح سے بات کر چکا ہے اس بار انڈین کی بے حد ریکویسٹ پ سشانت کی روح سےبات کر رہاہ ہے
بہت لوگ شید ان ویڈیوز کو دیکھ کر واقعی سوچ میں پر گئے ہوں کے شید ایسا ممکن ہو اور ویسے بھی ہندوں کے مطابق جب کوئی شخص نا حق مارا جاے یا قتل ہوجای تو اسکی روح بےچین ہو کر یہاں وہاں بھٹکتی رہتیی ہے جب تک کے دوسرا جنم نا لے لے یا پھر بد لہ نا لے لے


یہ شخص ایک مکمل فراڈ اور دھوکےباز ہے جو لوگوں کے جذبات اور سینٹمنٹس کو استمال کر کے پیسہ کما رہاہ ہے
کیوں کے برصغیر پاک وہ ہند کی سرزمین اس کام کے لیے نہایت زرخیرز ہے یہاں ہر طرح کا توہم پرستی شرک اور بدعت بہت آسانی سے بک جاتی ہے یہی تو وجہ ہے کے عمل اور جادو ٹونا کرنے والے عامیلین اپکو ان دونوں ملکوں یعنی انڈیا اور پاکستان کے علاوہ کہیں نہیں ملیں گے یہ دونوں ملک ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے یہ توہم پرستیاں اب تک شیرکرتے ہیں مگر فارن یا یورپین ممالک میں عوام تھوڑا شعوور رکھتی ہے ہر شےپرآنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرتی سو وہاں یہ چیزیں بکتی نہیں ہیں اور ظاہر ہے جہاں مارکیٹ ہو وہاں بزنس بھی ہوتا ہے اسی لیے سٹیو نو اس مارکیٹ کو کیچ کیا کے انڈیا کی ایک بڑی عوام ایسی چیزوں پر یقین کرتی ہے اور اسے دیکھنا بہت پسند کرتی ہے تو کیوں نا بسنیسس کیا جاۓ
اب سوال یہ ہے کہ یہ ایسا کیسے کر لیتا ہے تو میری ریسرچ کے مطابو کوئی بھی شخص جو تھوڑا سا بھی وائس ایڈیٹنگ جانتا ہو وہ اسے سنتے ہی جان جایگا کہ آواز کو تھوڑا سا اکواور ٹریبل افیکٹ دے کر جان بھوجھ کر ایسا بنایا گیا ہے کے یہ روح کی آواز لگے اور اسی شخص کی ہی آواز ہو اس مقصد کے لیے یہ شخص اس سیلبرٹی کے انٹرویوز اٹھا کر اسے کاٹ کر کہ یعنی ہر ایک لائن کو کاٹ کر کے ایک پورا پیکج تیار کرتا ہے اسی لیے یہ کام کبھی لائیو اسٹیڈیم میں نہیں کر تا بلکہ ریکارڈ کر کے اپلوڈ کرتا اہے جیسا کہ ہم لوگ عقل رکھنے والےہیں یعنی انٹرنیشنل ٹرانس کمیونیکیشن ایکسپرٹس کے ایک آرٹیکل میں اسے سے پوچھا گیا مگر تھوڑا ریسرچ سے پتا چلا کے یہ سب اسکے انٹرویز کے وائس نوٹ تھے جسے کاٹ کر کے ایڈٹ کیا گیا تھا یعنی یہ سب فراڈ تھااسٹیو کا اصل کام کیمرے اور گیجٹ ریویز ہے اور اسکی ویب سایٹ بھی موجود ہے جہاں یہ اسی گیجٹ کو بہچتا ہے مگر ساتھ ساتھ اسی سکلز کو اسنے پروفیسنل بنیسس میں بدل دیا امازوں پر اسنے اپنا یہی گیجٹ بیچنے کے لیےلگا رکھا ہے جسنے ریویزسے پتا چلتا ہے کے ہرخریدار کے ساتھ فراڈ ہوا ہے
اسکی ویڈیوز کے دوران آپکو زیادہ تر باتیں سمجھ ہی نہیں آیں گی مگر پھر بھی ایسا محسوس ہوتاہے جسے ہم سب سمجھ رہے ہیں سکالوجی کی زبان میں اسے اپوفنیا کہتے ہیں یعنی اس پرمیسج جس میں دماغ جو سوچتا ہے جیسا سننا چاہتا ہے غلت فہمی میں سامنے والی شخص کی باتیں ویسے ہی سننے لگتا ہے یوں کھیں کہ دماغ کودھوکہ دینا اسی لیے بات کرتے ہوے جان بوج کرایسا سوال کرتاہےجسکا جواب سسلبریٹی کےانٹرویذ میں کہیں ناکہیں ماجود ہو
اور سب سے بری بات کہ سوشانت کی روح نے یہ نہیں بتایا کے اسے کسنے مارا یعنی جو سب سےاہم بات تھی
اور جہاں تک باقی انفارمیشن کا تعلق ہے ویڈیو کے آغاز میں سٹیو خود کہتا ہے کے میں اسکے کام کا فین تھا

اور انڈین کی درخواست پر یہ ویڈیو بنا رہا ہوں اسکا مطلب سوشانت کےبارےمیںپہلےسےبہت کچھ جانتا تھا اس پر تھوڑا ریسرچ کر کے اسنے انٹرنٹ پر نیوز نکلیں جو پوری دنیا میں چل رہی تھیں مثلان اسکا مڈ ر ہوا دوستی کے نام پر اسکے گالے پر نشان تھے وہ ڈپریشن میں تھا ابتک ووہی سب کچھ ہمیں اسکی ویڈیوز میں جاننے کو ملا جو یہ صاف بات ہے کے یہ سب پری پلانڈ ویڈیو تھی جو لوگوں کو بےواقوف بننے کے لیے بنای گی اور بہت سے بیوقوف لوگوں نے اس پر یقین بھی کر لیا ہوگا
دیکھیں ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہمارا یمان ہے کے جو روح اس دنیا سے چلی گئی وہ عالم برزخ میں چلی جاتی ہیں انکا دنیا سے کنکشن بالکل ختم ہو جاتا ہے۔
برزخ دو چیزوں کے درمیان روک اور آڑ کو کہتے ہیں۔ شریعت میں اس سے مراد موت سے قیامت تک کا درمیانی عرصہ ہے۔ مرنے کے بعد تمام جن و انسان حسب مراتب برزخ میں رہیں گے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :
المومنون، 23 : 98 – 100
’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی (تو) وہ کہے گا اے میرے رب! مجھے (دنیا میں) واپس بھیج دے۔ تاکہ میں اس (دنیا) میں کچھ نیک عمل کر لوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں ہرگز نہیں، یہ وہ بات ہے جسے وہ (بطور حسرت) کہہ رہا ہو گا اور ان کے آگے ایک دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گےo‘‘

عالم برزخ کا کچھ تعلق دنیا کے ساتھ ہوتا ہے اور کچھ آخرت کے ساتھ۔ دنیا کے ساتھ تعلق اس طرح ہے جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عزیز و اقارب میت کے ثواب کیلئے صدقہ و خیرات اور ذکر و اذکار کرتے ہیں۔ اس سے میت کو ثواب پہنچتا ہے اور راحت و آرام ملتا ہے۔ آخرت کے ساتھ تعلق اس طرح ہے کہ جو عذاب یا آرام برزخ میں شروع ہوتا ہے۔ وہ آخرت میں ملنے والے عذاب یا آرام کا ہی حصہ ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’(اور عالم برزخ میں بھی) ان لوگوں کو دوزخ کی آگ کے سامنے صبح و شام لایا جاتا ہے۔‘
لفظ ”برزخ“ لغوی لحاظ سے دو چیزوں کے درمیان حائل چیز کو کہاجا تا ہے اسی وجہ سے دنیا و آخرت کے درمیان قرار پانے والے عالم کو ”برزخ“ کہا جاتا ہے۔
جہنمی روح کو دوزخ میں اپنا ٹھکانہ دیکھا کر آگ کے بستر پر اور جناتی روح کو جنت میں اپنا مقام دکھا کر نرم بستر پر قیامت تک کے لیے سلا دیا جاتا ہے
یہ آخرت کے راز ہیں جسے الله تعلا دنیا کے لوگوں پر ظاہر نہیں کرتا ورنہ یہ دنیا امتحان نہیں رہے گی کیوں کے سب کچھ تو سامنے اجاے گا پھر بنا دیکھے ایمان لانے کا اجر کیسے ملے گا
اور جہاں تک کسی کے نا حق قتل کا تعلق ہے تو احدث مبارکہ میں بتا یاگیا ہے کہ قیامت کے روز سب سے پہلا فیصلہ قتل کا ہوگا مقتل قتلک کو سر اور پیشانی کے بالوں سے گھستا ہوا الله کے حضور لے گا کے اے الله اسنے مجھے دنیا میں قتل کیا مجھے انصاف چاہیے ۔

سو جپ روح ایک بار اس دنیا سے پرواز کر گئی اسکا واپس آنا نا ممکن ہے
سو اگر ایسا ممکن ہوتا تو آپکے عزیز پیارے سب سے پھلے اپسے آ کر بات کرتے اور آخرت کے بارے میں سب راز بتا دیتے مگریہ بیان کردہ قرانی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ انکو اسکی اجازت نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *