کیا واقعی مستقبل میں انسان مارس پر انسانی بستیاں آباد کرنےوالے ہیں؟

Image
Description

مارس ہمارے سولر سسٹم میں موجود زمین کے سب سے قریبی، سورج سے فاصلے کے لحاظ سے چوتھا اور مرکری کے بعد دوسرا سب سے چھوٹا سیارہ ۔ جس پر زندگی کی تلاش میں سائنٹسٹ ک ی دہایوں سے کھوج میں لگے ہوے ہیں کیوں کے یہاں پانی کے ذخائر اور ایسے ندی نالوں کے ثبوت ملے ہیں جہاں شاید ایک وقت میں پانی بہا کرتا تھا اور ہم سب جانتے ہیں جہاں پانی ہو وہاں زندگی کی امید ہوتی ہے پھر چاہے وہ ہم جسے انسانوں کی صورت ہو یا پھر عام انسانی آنکھوں سے نا نظر انے والے مائیکرو گریزم .یہاں آج بھی پانی بخارا ت یعنی اسکے اتموسفیرے میں بخارات کی صورت یا جمی ہوئی سولڈ برف کی صورت زمین کی طرح اس کے نورتھ اور سا و تھ پول پر موجود ہیں۔
ویسے تو مارس ایک بہت ہی ٹھنڈی جگہ ہے مگر پھر بھی یہ سورج سے ایک انسانوں کے رہنے کی جگہ موجود ہے یعنی ایسی آئیڈیل لوکیشن جہاں سورج کی روشنی سے پانی سولڈ شکل میں موجود ہے جسے کسی طرح لیکویڈ میں بدلہ جا سکتا ہے کیوں کے مارس کا درجہ حرارت اوسطا مائنس 80 سے 120 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے .اور اگر یہاں وینس کی طرح درجہ حرارت بہت زیادہ ہتا تو پانی بخارات بن کر سورج کی گرمی سے ا ڑ جاتا , مارس زمین کے ڈایا میٹر کا تقریبا آدھا ہے یعنی اسکے صرف خشکی کے ایریا جتنا یہاں زمین کے مقابلے گریوٹی صرف 38 پرسینٹ ہے یعنی زمین پر اگر اکا وژن 45 کلوگرام ہے تو مارس پر صرف 17 کلوگرام ہی رہ جائے گا .یہاں زمین کی طرح دن اور رات کا تصور اور سورج کی خطرناک شوآ ووں سے بچنے کے لیے انوارمنٹ بھی موجود ہے .مارس کا ایک دن 24 گھنٹے 39 منٹس اور 35 سیکنڈ ز کا ہو تا ہے.شام ہوتے ہی اسکا آسمان ریڈ نہیں بلکے نیلا ہو جاتا ہے


. اسکے ٩٥ پرسینٹ حصے میں کاربن ڈائی آکسائڈ موجود ہے اور میتھین گیس کے بھی ذخائر دریافت ہوے ہیں سو اگر کسی طرح انسان یہ درخت اور پیڑ پودے اوگا پاے تو اس سے پیدا ہونے والی آکسیجن انسانوں کے سانس لینے اور اسکی زمین پر زندگی کے وجود کو شروح کرنے میں مدد کرے گی جہاں انسان زمین کے نیچے یا ستہ پر حفاظتی شیل بنا کر رہ سکتے ہیں ورنہ ١٠٠ کلومیٹر پر گھنٹہ کی رفتار سے چنلے والی طوفانی ہوائیں سب کچھ تباہ کر سکتی ہیں .اسی لیے باقی سیاروں کو چھوڑ کر مارس ہی آج ہماری توجہ کا مرکز ہے اور سائنٹسٹ ان کوششوں میں ہیں کے اسے کس طرح سے آباد کیا جائے کیوں کے انے والے وقت میں ممکنہ علمی جنگ کی صورت میں جو نیوکلیر ہتھیاروں سے لڑھ جائے گی اور دوسرا زمین پر بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ بہت جلد انسانوں کے رہنے لائق ماحول کو تباہ کر دے گی اور ہمیں جلد سے جلد اس سے بچنے کے لیے نیا گھر تلاش کرنا ہوگا جسے صرف دنیا کے امر ترین لوگ ہی اففورڈ کر سکیں گے .مگر اس پراسرار جہاں کے بڑے میں بہت سے ایسے حیران کن اور ناقابل یقین حقائق ہیں جو یقینن اپ آج سے پھلے نہیں جانتےہوںگے اسکے علوا کیا انسان واقعی زمین کے مدار سے نکال کر خلا میں کہیں اور آباد ہو پانے گا اسلامی روایت اور قرآن اس بڑے میں کیا کہتا ہے یہ سب باتیں ہم آج کی اس ویڈیو میں جانیں گے .مارس کے بارے میں بہت ہی عجیب وہ غریب تھیو ریز مشور ہیں قدیم رومی مذہب میں مارس کو جنگ کا خدا کے نام سے پکارا جاتا تھا کیونکہ وہ مارس کی پرستش کرتے تھے۔ اس کی سرخ رنگت کی وجہ سے اسے سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سرخ رنگاسکی کی سطح پر آئرن آکسائڈ کی بہت زیادہ مقدار کی وجہ سے ہے۔۔ اس کے سطح پر زمین کے چاند کی طرح اسٹرائیڈ یا سپیس سے آ نے والے سل اسٹائل آبجیکٹس کے ٹکرانے سے بننے والے گڑھے اور زمین کی طرح لیکس اور صحرا بھی موجود ہیں۔اس کے ساؤتھ پول پر برف کی اتنی زیدہ مقدار ہے کہ اگر یہ برف پگھل کر پانی میں تبدیل ہوجائے تو یہ 11 میٹر (36 فٹ) کی گہرائی تک پورے مارس کی سطح کو گھیر لے گا۔[15] نومبر 2016 میں ناسا نے مارس کے اتوپیا پلانیٹیا نامی علاقے میں بڑی مقدار میں زیر زمین برف دریافت کی اس کے پانی کے حجم کا اندازہ جھیل سپیریئر کے پانی کے برابر لگایا گیا ہے
یہاں بہت بڑا آتش فشاں پہاڑ بھی موجود ہے جسے کوہ اولیمپس مونس کہتے ہیں یہ پہاڑ سولر سسٹم کے سیاروں پر اب تک دریافت ہونے والے پہاڑوں میں سے سب سے بڑا ہے اور اس پر ایک بہت بڑی وادی جسے [[وادئ میرینرس] کہتے ہیں یہ وادی بھی سولر سسٹم کے تمام سیاروں پر اب تک دریافت ہونے والی وادیوں میں سب سے بڑی ہے۔ مارس کے دو چاند ہیں جنہیں فوبوس اور دیموس کہتے ہیں یہ چاند چھوٹے اور بے ترتیب شکل کے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا کیا جاتا ہے کہ یہ ڈف پلانٹس ہو سکتے ہیں جنہیں مارس کیگریوٹی نے پکڑ لیا ہو جس کی وجہ سے یہ مارس کے گرد گھوم رہے ہیں ۔ مستقبل میں مارس پر انسانی آبادی کو بسنے کے لیے کی منصوبے تیار کے گئے ہیں جن میں مارس 2020 اور ایکسو مارس رور منصوبہ شامل ہے.ٹیسلا کمپنی کے مالک مسک نے تو مارس پر پہلے سپیس توڑ کا ایلن بھی کر دیا ہے جسکی ٹکٹ صرف 10 بلین ڈالر ہوگی یہ 2024 میں روانہ ہوگا جب ہر ٢ سال کے بعد مارس زمین کے سب سے زیدہ کرب یعنی کم ترین فاصلے پر موجود ہتا ہے یہ 5 ماہ کا طویل سفر ہوگا جس سے پھلے ٢٠٢٢ میں دو راکٹس کے ذریعے تمام انسانوں کے رہنے لائق ضروری سامان مسلان سولر پنل شیلٹر پانی کھانا اور فیول کو پیدا کرنے کی مشین روانہ کر دی جائیں گی اور ٢٠٥٠ تک یہاں انسانی بستی آباد ہوجای گی ۔مارس ایکسپلوریشن پروگرام کے تحت ناسا نے ٢٠١٢ میں اپنا ایک اور راکٹ مارس کی ستہ پر بھیجا جسکا نام کرووستے ہے یہ 26 نومبر ٢٠١١ کو زمین سے مارس کے لیے روانہ ہوا اور 560 ملین کلومیٹر کا سفر تہ کرتے ہوے 6 اگست ٢٠١٢ کو مارس کی ستہ کریٹر پر لینڈ کرنے میں کامیاب رہا.جسکے پاسس ایک پہاڑ ماؤنٹ شارپ بھی موجود ہے جسکی اونچائی 18٠٠٠ فیٹ ہے.یہاں سے گزر کر مارس کے دوسرے حصے میں پہنچانا اس روور کے لیے بہت مشکل کا رسکی تھا مگر پھر بھی یہ سر وائز کر گیا اور 8 سال میں مارس کی زمین اور انوارمنٹ کے بڑے میں کی سو تصویرں بھیج کر ہمیں بہت کچھ بتایا یہ مشن وسے تو ٢ سال کا تھا مگر اسکی کامیابی کو دیکھتے ہوے اسکی ڈیٹ بڑھا دی گی اور آج تک یہ چل رہا ہے

انسان مستقبل کے لیے کی دہیان پھلے کے منصوبے بنا رہا ہے اور جو زمین الله نے انسانوں کے لیے رہنے لائق تخلیق کی ااسے خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہا ہے انوارمنٹل پولّتیوں .اور پاپولیشن گرین ہاؤس گیسز کا عصر درختوں کا کٹاؤ گلوبل وارمنگ میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے ہاں تو یہ چاہیے کے کسی اور دنیا کی تلاش میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کی بجانے ہمر اس دنیا کو بچے کے لیے تمام ضروری اقدام کرے . یہ سچ ہے کے قرآن قرم کی سوره ال رحمان میں الله پاک فرماتے ہیں جس کا مفوم ہے کے کے اہ گروہ جن وہ انس اگر تم میں ہمت ہے کے زمین اور آسمان کے کناروں سے نکال جاؤ تو نکال جاؤ اور زور کے سوا تم نکال ہی نہیں سکتے اور تم جہاں بھی جاؤ گے وہاں اسی کی سلطنت ہے
یعنی آج نہیں تو انے والی چاند دہایوں میں ہوسکتا ہے ٹیکنالوجی اس قابل ہوجای کے انسان مارس پر جانے کے قابل ہو جائیں مگر وہاں انسانی آبادی بسانا اور زندہ رہنا کسی صورت ممکن نہیں یہاں انہیں ایسے قدرتی خطرات کا ہر لمحہ سامنا کرنا پڑے گا جو ایک ہی لمحے میں تمام انسانوں کا یہاں صفایا کر سکتی ہیں .کیوں کے انسانوں کے لیے زمین کو الله تال نے چن کر اس طرح سے تخجلیق کیا کے آج تک سائنٹسٹ کو ہماری زمین جسیا کوئی ایک بھی سیارہ نہیں ملا جو اسی کی طرح گولدے لاک زون میں موجود ہو یعنی سورج سے اتنے فلسے پر ک یہاں پانی بھی موجود ہو اور وہ بھی لیک ووڈ سھپے میں یعنی ٹمپریچر انسانوں کے رہاننے لائق ہو یہاں ٤ موسم ہوں انسوں کو خطرناک ریڈی ایشن سے بچنے کے لیے قدرتی حفاظتی آسمان کی تھیں موجود ہوں آکسیجن اور دوسرے المنت جو انسانوں اور پودوں کے لیے زندگی کی علامت ہیں مناسب مقدار میں موجود ہوں گراویترے سے لے کر دن اور رات کے نظام پھاڑ سمندر سہارا ہوا مٹی اور خانے کے لیے خوراک جوئی کبھی ختم نا ہو یہ سب بتاتا ہے کے اس زندگی کو بسنے کے پیچھے ایک سوچ یا دماغ موجود ہے یہ سب اتفاق نہیں ہے .جو زمین ک علاوہ کسی اور جگہ پر خود انسوں کے ہاتھوں ایک بار پھر ممکن ہوگا.ممکن ہے کے مارس پر یا کائنات میں کہیں اور ایسے چھوٹے جاندار موجود ہوں جو کسی طرح خود کو اس ماحول میں رہنے کے قابل کر چکے ہوں مگر انسانوں کا معاملہ بالکل الگ ہے اسے رہنے کے لیے گھر بھی کہے خانے کے لیے کھانا بھی پھنے کے لیے کپڑا بھی بات چیت کے لیے دوست بھی اور زندہ رہنے کے لیے مقصد بھی. جو خدا کی نشانیوں کو کائنات میں نظر دوڑانے پر اسک ا یمان ہر لمحہ اور مظبوط کرتا ہے کے کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے ووہی خدا ہے . انسانوں کو مارس جانے میں کتناوقت مزید لگے گا اور اسکے نتائج یا ہںگے یہ جاننے کے لیے بس چند سال کا انتظار کافی ہے .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *