کائنات کے سب سے پراسرار آبجیکٹس کا قرآن میں ذکر اور ان کے پیدا کرنے کا مقصد

You must need to login..!

Embed Code

Description

بلیک ہولز کائنات کے سب خطرناک ابجیکٹس ہوتے ہیں جو ستارے کے تباہ ہونے کے بعد وجود میں آتے ہیں اور انکی گراوٹی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی بلیک ہول ہمارے نظام شمسی میں داخل ہوجائے تو کچھ ہی منٹوں میں یہ ہمارے پورے نظام شمسی کو نگل لے گا۔
ابھی تک تو کوئی بلیک ہول ہمارے اتنے قریب نہیں آیا ہے لیکن 6 مئی 2020 کی بات ہے جب یورپ کے کچھ اسٹرونومرز نے ایک ایسے بلیک ہول کو دریافت کیا جو زمین کے بہت زیادہ قریب ہے اور اسکا فاصلہ اب تک دریافت ہونے والے بلیک ہولز سے تین گنا زیادہ ہے۔ یہ اتنا نزدیک ہے کہ ہم اس بلیک ہول کے ڈانسگ موڈ کو ایک چھوٹے سے ٹیلی سکوپ کے ذریعے بھی دیکھ سکتے ہیں اگر کسی انسان کی نظر تیز ہو تو رات کو بغیر کسی ٹیلی سکوپ کے بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ ڈانسنگ موڈ کسی بھی بلیک ہول کا وہ حصہ ہوتا ہے جو کسی ابجیکٹ کو نگلنے سے پہلے اپنے چاروں طرف گھماتا ہے۔

تو ہوا کچھ یوں کہ یورپ کے کچھ اسٹرونومرز چلی میں موجود ایک ٹیلی سکوپ سے آسمان کا مشاہدہ کررہے تھے کہ انہیں دو ایسے ستارے دیکھنے کو ملے جو کسی نا نظر آنے والے ابجیکٹ کے گرد گھوم رہے تھے۔ جب اسٹرونومرز نے اس ابجیکٹ کا گہرائی سے مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس نا نظر آنے والے ابجیکٹ کا ماس ہمارے سورج سے 3 یا 4 گناہ زیادہ ہے اور یہ چیزیں صرف ایک ہی چیز کی طرف اشارہ کررہی تھی اور وہ وہ تھا ایک بلیک ہول جسے کائنات کے سب سے حیرت انگیز اور خطرناک ابجیکٹس مانے جاتے ہیں۔

ماہرین فلکیات کے مطابق اس بلیک ہول کا ڈایا میٹر 40 کلومیٹر ہے اور یہ ایک قسم کا بلیک ہول ہے جو کسی چیز کو نگلنے کی جگہ اسے اپنا چکر لگانے دے رہا تھا جسکے بعد ماہرین فلکیات نے اس سسٹم کو -6819 HRکا نام دیا ہے۔

یہاں ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال ہوگا کہ کیا اس بلیک ہوک سے زمین کو کوئی خطرہ ہے ؟؟؟

بلکل بھی نہیں کیونکہ یہ بلیک ہول ہماری زمین سے 1000 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور ایک نوری سال میں 95 ہزار ارب کلو میٹر کا فاصلہ ہوتا ہے اور یہ بلیک ہول 1000 نوری سال کے دوری پر ہے اسلئے ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق یہ بلیک ہول پہلے ایک ستارا تھا اور بعد میں یہ سپر نوا ہونے کے بعد بلیک ہول بن گیا اور اس قسم کے بلیک ہولز ہماری کہکشاہ میں لاکھوں کی تعداد میں ہوسکتے ہیں لیکن چونکہ یہ بہت زیادہ تاریک ہوتا ہے اسلئے اسے ڈھونڈنا آسان نہیں ہوتا ہوسکتا ہے ہمارے قریب اس بھی زیادہ بلیک ہولز موجود ہو لیکن بہت زیادہ تاریک ہونے کی وجہ سے اب تک شاید ہمیں انکا پتا نہیں چل پارہا کیونکہ کسی بھی چیز کی پرچائی دیکھنے کیلئے آپکو روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں بلیک ہولز کو ڈھونڈنے میں بہت مشکل پیش آرہی ہے۔

ہمارے پاس کافی ایڈوانس ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود بھی ہم نے ابھی تک بہت کم بلیک ہوکز دریافت کئے ہیں کیونکہ بلیک ہولز کی گراوٹی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ روشنی بھی اس میں غائب ہوجاتی یے لیکن ایک دن ایسا آئے گا جب ہمارے پاس بلیک ہولز کے بارے میں کافی معلومات ہونگی اور کائنات کو بہتر سمجھ چکے ہونگے کیونکہ ایک زمانہ تھا جب ہمیں صرف اتنا پتا تھا کہ بلیک ہولز صرف کہکشاوں کے مرکز میں پائے جاتے ہیں لیکن ترقی ہونے کے ساتھ ساتھ آج ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ بلیک ہول ہم سے 1000 نوری سال کے فاصلے پر بھی موجود ہے اور ایسے بلیک ہولز کہکشاوں میں لاکھوں کی تعداد میں ہوسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *