نظریہ ارتقاء کے نام پر انسانوں کو کتنا بڑا دھوکہ دیا جا رہا ہے ۔کیا ہم انسان واقعی ہی بندروں کی اولاد ہیں؟

Image

You must need to login..!

Embed Code

Description

دوستو ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو انسانوں سمیت پیڑ پودوں اور جانوروں کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے جیسے یہ بالکل اسی جگہ کے لیے ہی بنے ہیں جہاں وہ رہ رہے ہیں .اور یہ بھی کے یہ صرف محض اتفاق نہیں ہے بلکے اسکے پیچھے ایک دماغ یا سوچ موجود ہے جسنے انہیں ڈیزائن کیا . انسان چونکہ ایک سمجھدار اور غور فکر کرنے والی مخلوق ہے لہذا ایک سوال ہمیشہ اسکے دماغ میں ابھرتا رہتا ہے کے آخر اس زمین پر زندگی کیسے وجود میں آئی اورانسانوں کو پیدا کرنے اور زمین پر بسانے اور عقل شوور دینے کاراز کیا ہے؟ کیا انسان بھی باقی جانوروں کی طرح اپنے ابا اجداد سے ارتقائی مرحلہ یعنی ارتقاء کا عمل تہ کرتا ہوا بندر سے انسان بنا یا پھر اسے انسان ہی تخلیق کیا گیا . کیا جانوروں کی طرح اسکی بھی آج سے لاکھوں سال پہلے کی قسمیں یا نسلیں تھیں جیسی جانوروں میں موجود ہوتی ہیں اور اس بات کا ثبوت آج سائنس لاکھوں سال پہلے زمین پر بسنے والے انسانی نسلوں کے فوسل اور ہڈیوں کو پیش کرتی ہے .جو دنیا کے مختلف حصوں سے ملی ہیں . تو کیا واقعی انگلش نیٹرو لسٹ چارلس ڈرون کا نظریہ ارتقا حقیقت ہے کیوں کے حضرت آدم کو جو انسانوں کے باپ ہیں اور انہی سے انسانی نسل زمین پر آگے بڑھی آج سے تقریبا ٦٠٠٠ سال پھلے زمین پر موجود تھے مگر پھر سوال یہ ہے کے لاکھوں سال پہلے کے ملنے والے انسانی ڈھانچے پھر کس مخوق کے ہیں جبکہ قرآن میں سوره ال بقرہ میں واضح طور حضرت آدم کی تخلیق سے متعلق بیان ہے کے الله نے فرشتوں سے فرمایا میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں .اسے سمجھننے کے لیے
سب سے پھلے جان لائن کے نظریہ ارتقا کا مطلب کیا ہے ارتقاء کے بڑے میں نظریات کی ابتدا سب سے پہلے فرانس
کے نیٹرو لسٹ جین بپٹسٹ ڈی لامارک نے ڈالی جس نے 1809 میں اپنی کتاب فلاسفی ا زولوجی کیوں میں حاصل شدہ خصوصیات کی اگلی نسل میں منتقلی کا نظریہ پیش کیا۔ لیکن یہ نظریہ بعد میں ریجیکٹ کردیا گیا۔
اس نظریے کے مطابق زمین پر زندگی یعنی ہم انسان اور تمام مخلوقات یعنی جانور پودے اور مائیکرو گنیز م اتفاق سے وجود میں آ گئے ۔ زندگی کی ابتداء پانی میں ہوئی جہاں کچھ سالموں کے ملاپ سے ایک سادہ سیل وجود میں آگیا۔ اسسنگل سیل نے مسلسل ارتقاء کی منزلیں طے کرتے ہوئے پودے ،جانور اور انسان بنا دیے۔ ۔ مزید یہ کہ ارتقاء ایک سست عمل ہے جس کا مشاہدہ کرنا ممکن نہیں۔ یعنی ہزاروں یا لاکھوں سال بعد ہی اسے دیکھا جا سکتا ہے . مگر میرا ایک سوال ہے کے سائینس دانوں کے مطابق زمین 4.6 ارب سال پھلے بنی اور اس پر زندگی کا آغاز 3.8 ارب سال قبل ہوا۔ زندگی کے آغاز سے لے کر اگلے 3.3 ارب سال تک زمین پر موجود زندگی صرف ایک سیل والے جانداروں اور سادہ الجی وغیرہ پر مشتمل تھی۔ یہ دور جو 3.3 ارب سال پر مشتمل تھا پری کیمبرین دور کہلاتا ہے۔ اس کے بعد آج سے تقریبا 530 ملین سال پھلے اچانک فوسل ریکارڈ میں آج کے تمام پائے جانے والے جانوروں کے نمائیندوں کے فوسلز ملنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس تھوڑے سے وقت میں اتنے زیادہ جانداروں کا پیدا ہوجانا ڈارون کے سست رفتار نظریہ ارتقاء پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
ڈان کا کہنا تھا کے جاندار اپنی نسل کو زمین سے ختم ہونے سے بچنے کے لیے خود کو ماحول کے مطابق تبدیل کر لیتے ہیں۔۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ بعض پانی کے جانور کروڑوں سال پہلے زمینی جانور تھے مگر کسی وجہ سے اُن کو اپنی زندگی ایک لمبے عرصے تک زمین کے مشکل حالات میں خود کو بچانے کے لیے پانی میں گزارنی پڑی تو ان کے پاﺅں غائب ہو گئے اور وہ مچھلی کی شکل اختیار کر گئے۔ اسی طرح مچھلیوں کو جب زمین پر زندگی گزارنی پڑی تو ان کے پاؤں نکل آئے اور ان کی شکل پہلے مینڈک اور مگرمچھ اور پھر بعد میں دیگر جانداروں کے جیسی ہو گئی۔ یعنی اپنی بقاء کے لیے انکی فطرت تبدیل ہوتی رہی۔ اسی طرح انسان کے بارے میں نظریہ ارتقا کے حامی کہتے ہیں کہ انسان بن مانس ایسٹرولو پیتھکس کی نسل سے تھا جو اپنے ماحول کی وجہ سے تبدیل ہو کر ویسا ہو گیا جیسا کہ آج ہے اس کی بھی کی نسلیں یا کزنزز ایک ہی وقت میں دنیا کے مختلف کونوں میں موجود تھے مثلا جو نیندرتھال ز موجودہ انسانی نسل یعنی ہومو سیپین س سے ہائٹ میں چھوٹے مگر بہت طاقتور جسم کے مالک تھے یہ موجودہ یورپی میں انگلینڈ اور سائبیریا کے ٹھنڈے ترین علاقوں میں رہنا سیکھ گئے تھے ۔

انسان .یعنی چمپینزی اور انسان آپس میں ارتقائی کزن ہیں۔ دو پیروں پر انسان اس لیے کھڑاہو گیا کہ وہ اُس زمانے اور اُس وقت کے ماحول کے مطابق اُس کی بقاء کے لیے ضروری تھا۔کیوں کیا وہ بندر لاکھوں سال پھلے افریقہ کی سر زمین پر اس وقت صرف درختوں پر ہی رہتے تھے مگر جب درختوں پر خانہ ختم ہوا تو اسکی تلاش میں زمین پر اتر کر چلانے لگے
آج بھی اسے اسکول کالجز میں ایک نظریہ کے طور پر پڑھایا جاتا ہے نا کے قانون یا لاء کیوں کے ایک نظریہ کو سائنس قانون بنانے کے لیے اسے تجربات سے ثابت کرنا پڑتا ہے. کیوں کے ڈارون کو اس وقت بائیولوجی اور ڈی این اے کا بالکل نہیں پتہ تھا اس لئے وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ زندہ اجسام میںبدلو کہاں سے آتے ہیں۔ اسلئے بیسویں صدی میں ڈارون کے بیان کردہ ارتقائی خیالات میں موجود خامیوں کو بڑے پیمانے پر تبدیل کیا گیا اور ایک نئے نظریے کی بنیاد ڈالی جسے نیو ڈارونزم کہا جاتا ہے۔ اس جدید نظریے میں بھی بہت سی خامیاں ہیں اسلئے بہت سے ماہرین اب اس نظریے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرنا چاہت ہیں ۔حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جینیٹک کوڈ یعنی ڈی این اے میں موجود انفارمیشن کی مثال کمپیوٹر پروگرام کی بجائے بذات خود کمپیوٹر کی ہے جو کسی اور کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے کام کرتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جینیٹک کوڈ جو اتنا زیادہ پیچیدہ ہے وہ کہاں سے پیدا ہوگیا؟
آج تک لیبارٹری میں ایسا کوئی تجربہ نہیں کیا جاسکا جس میں بےجان مالیکیولز سے کوئی سادہ سا خلیہ بنایا جا سکا ہو۔ اسکے علاوہ بیالوجی میں سب سے اہم تھیوری سیل تھیوری کے بنیادی پوائنٹس میں یہ بات شامل ہے کہ ایک سیل پہلے سے موجود سیل سے ہی وجود میں آ سکتا ہے اس کے علاوہ نہیں۔
مگر پھر بھی
کچھ منکرین خدا احادیث اور قرآن سے نظریہ ارتقاء کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان بندر نما مخلوق سے مسلسل ارتقاء کے ذریعے پیدا ہوا۔ پھر اللہ تعالی’ نے ان میں سے کسی ایک انسان کو چن کر اس میں اپنی روح پھونکی جس سے انسان کو شعور حاصل ہوا۔ لیکن یہ عقیدہ قرآن اور صحیح احادیث کے خلاف ہے جس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
1۔ قرآن میں جا بجا حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی سے تخلیق، ان کا جنت میں ٹھہرنا اور پھر زمین پر اتارے جانا کا ذکر موجود ہے۔
2۔ قرآن میں حضرت عیسی’علیہ السلام کی بن باپ کی پیدائش کو حضرت آدم علیہ السلام کی مثال بیان کر کے کہا گیا ہے جنہیں بغیر ماں باپ کے پیدا کیا گیا۔
یعنی یہآیات یہ ثابت کرتی ہیں کے انسان کو تخلق کیا گیا .یہ کسی جانور کی ارتقائی شکل نہیں ہیں . تو پھر کیا ہے حقیقت ؟ انسانوں کو نظریہ ارتقا کی صورت میں کتنا بڑا دھوکہ دیا جا رہا ہے اسکے زیادہ تر لوگوں کو اندازہ بھی نہیں ہے کے خدا کے وجود کو نا ماننے والے کس طرح اس دنیا کائنات اور خود انسان کے وجود کو بس ایک قدرتی عمل ثابت کرنے پر تلے ہیں تاکہ خدا کی ذات پر انکا یقین ختم ہوجاے . اور افسوس کے مغربی ملحدین کے اس نظریہ کو ہمارے اپنے اندر چند صاحب عقل لوگ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں .مگر ان سے میرا صرف ایک معصومانہ سا سوال ہے کے چلیں مان لیتے ہیں کے ارتقاء ایک حقیقت ہے اور انسان بندروں سے موجودہ انسانی شکل میں بدل گیا تو پھر اب تک ہزاروں سال سے انسان ہی کیوں ہے کسی اور مخلوق میں کیوں نہیں بدل گیا . اگر ارتقاء کو صرف انسانی زھری خدوخال میں بدلاؤ کے طور پر من لیا جائے تو کوئی حرج نہیں مثال کے طور پر ہم سبھی لوگ جانتے ہیں کے حضرت آدم کا قد مبارک قریبا ٩٠ فیٹ تھا جو وقت کے ساتھ کم ہوتا ہوتا موجودہ انسانی ہائٹ میں بدل گیا جس ملک یا کہتے کے لوگ جس ماحول میں رهتے تھے انکی آنکھوں بالوں اور جلد کا رنگ اسی طرح بدلنے لگا جو کے ظاہری خدوخال ہیں مگر اندرونی طور پر انکی ڈی این اے میں کوئی بدلو نہیں ہوا یعنی نظریہ ارتقا یہاں بالکل خاموش ہو جاتا ہے .
یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک ترتیب شدہ نظام بغیر کسی سمجھدار دماغ کی چھیڑ چار کے بے ترتیب چیزوں سے کبھی نہیں بن سکتا۔ مثال کے طور پر فرض کریں اگر آپ کے پاس ایک ڈبے میں مختلف قسم کی دالیں موجود ہوں اور آپ وہ ڈبہ ہلائیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کے ہلانے سے وہ دالیں مختلف تہوں کی صورت میں الگ ہو جائیں۔ بالکل اسی طرح بے ترتیب مالیکیولز آپس میں جڑ کر زندگی کا ترتیب شدہ نظام نہیں بنا سکتے۔
مزید یہ کی جانوروں کے بڑے بڑے گروہوں جیسا کہ پرندوں، زمین پر رینگنے والے جانور ، میملز اور ایمفیبینز کے درمیان کوئی بھی ایسی زندہ جاندار مخلوق کیوں موجود نہیں جو ان سلسلوں کو آپس میں جوڑ سکے۔ یعنی زمین پر رینگنے والے جانور آج بھی موجود ہیں لیکن پرندوں اور ان کے درمیان والیمخلوق کیوں ناپید ہوگئیں؟
جہاں تک انسانوں کے ملنے والے ہڈیوں کے ڈھانچوں کی بات ہے ذرا اسے بھی کلیر کر لیتے ہیں
2019 میں نیچرمیگزین میں ایک ریسرآرچ پیپر پبلش ہوا جس میں دو فاسل کھوپڑیوں کودکھایا گیا کے ۔ یہ فاسلز یونان کی ایک غار سے دریافت ہوئے۔ یہ ٹوٹی پھوٹی حالت میں اور نامکمل تھے جن کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے ڈیجیٹلی اپنی اصلی حالت میں لانے کی کوشش کی گئی اور نتیجہ نکلا کہ یہ ہومو سیپیئن کے فاسل ہیں۔ یعنی انسانوں کے اب و اجداد
ان کی یورینیم ڈیٹنگ سے پتہ چلا کہ یہ فاسلز 200,000 پرانے ہیں لہذا ثابت ہوگیا کہ ہومو سیپیئن یورپ کے علاقے میں دو لاکھ سال پہلے موجود تھے۔ جدید ٹیکنالوجی سے ان کو ڈیجیٹلی خود سے تیار کر لیا گیا اور یورینیم ڈینٹگ سے ان کی عمر بھی آگئی لہذا اب تو یہ سائنسی حقیقت بن گئی۔اب اس میں شک کی کیا گنجائش باقی ہے۔
لیکن بات اتنی سیدھی نہیں ہے!

یورینیم ڈینٹگ کے ماہر وارن شارپ کا کہنا ہے کہ اصل میں ان دو فاسل کھوپڑیوں کی عمر یورینیم ڈیٹنگ سے 300,000 سال سے زیادہ بھی نکلتی ہے اور 40,000 سال سے کم بھی ۔ لہذا ان فاسلز کی اصل عمر کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کونسی عمر ٹھیک ہے؟
کیا 300,000 سال والی بات ٹھیک ہے؟ یا 40,000 سال والی یا ان دونوں کی درمیانی عمر درست ہے؟ یہ تو ارتقائی سائنسدانوں پہ ڈیپینڈ کرتا ہے کہ جو عمر انہیں پسن اے وہ استعمال کر لی۔
اس کے علاؤہ ہومو ہائڈلبرگینسیس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ تھا اس فاسل کی عمر بھی ایک وقت میں 40,000 سال مانی جاتی تھی پھر اس فاسل کی عمر 600,000 سال مانی جانے لگی اور حال ہی اس کی عمر 300,000 نکل آئی۔ انسانی فاسلز کی عمر کتنی اوٹھنٹک ہوتی ہے اس کا اندازہ یہیں سے لگا لیں۔
لیکن اس کے باوجود بھی ڈان کا ارتقاء ناقابلِ تردید سچائی ہی رہے گی کیونکہ ارتقاء تو پہلے ثابت ہوچکا ہے بس ثبوت ڈھونڈنے باقی ہیں. اور پھلے کیوں سبہت کروایا جا رہا ہے وہ اپ جانتے ہیں کے خدا کی قدرت اور اسکے وجود پر ایمان کمزور کرنا .
یہ سب انسانوں کی ہی مختلف نسلیں تھیں یہ کوئی الگ چیز نہیں تھی۔ مزید یہ کہ یہ آپس میں جنسی ملاپ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ ان کے خدوخال کو کپمیوٹر ماڈلز کے ذریعے بگاڑ کر دکھایا جاتا ہے۔ ان کے چہرے پر بال دکھائے جاتے ہیں حالانکہ بال فوسل ریکارڈ میں محفوظ ہی نہیں ہوتے۔ روس میں ایک قدیم 13 سالہ لڑکی کا ڈھانچہ دریافت ہوا جس کی ماں نینڈرتھل اور باپ ڈینی سوون مین تھا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان مختلف انسانی نسلوں کو انسان کی مختلف ارتقائی شکلیں قرار دے کر انسان کو چیمپینزی کا کزن قرار دینا سراسر حماقت ہے۔ انسانوں کی اس کی علاوہ بھی کئی قدیم نسلیں موجود تھیں جو ابھی دریافت ہونا باقی ہیں مثلا” جن کے قد اونچے تھے یا جن کے خدوخال ہم سے مختلف تھے.قوم اد کا ذکر قرآن میں موجود ہے جو بہت بڑے قد اور جسامت رکھتے تھے ہ ان کے قد کجھور کے درخت کی طرح لمبے، تھے اور یہ بہت صحت مند اور بھاری جسم کے مالک تھے جن کے فوسل بھی مل چکے ہیں تو کیا انہیں بھی ایک نی انسانی نسل یا ارتقائی نسل من لیا جائے ؟ کیوں کے ہزاروں سال پہلے اپنے بڑے قد اور جسامت کے باوجود وہ ہمارے جسے انسان ہی تھے
۔ بنی نوع انسان کے زمین پر آنے کے بعد سے ان میں ماحول کی مناسبت سے رنگ و نسل، قد اور خدوخال میں تبدیلی آتی رہی ہے اور مزید بھی قیامت تک آتی رہے گی لیکن اس تمام دورانیے میں وہ انسان ہی تھے اور انسان ہی رہیں گے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ جن انسانی نسلوں کو کمپیوٹر گرافکس کی مدد سے بگاڑ کر انہیں انسان اور بندروں کے درمیان ارتقائی تعلق کے طور پر بیان کیا جاتا ہے وہ کچھ اور نہیں بلکہ انسان ہی تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک کھوپڑی کو مختلف کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے مختلف شکلوں میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اگر یہی ارتقائی سائنس دان آج نہیں بلکے فیوچر میں کہیں پیدا ہوتے تو یہ چینی اور افریقی لوگوں کے ڈھانچوں کو بھی مختلف نسلیں بنا کر پیش کر رہے ہوتے۔ مگے امید ہے کے اب اپ اس دوکھے اور حقیقت میں فرق واضح طور پر جان گئے ہونگے .ایک مشور گیر مسلم سائنٹسٹ ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور آرکیالوجسٹ ھے اس نے اپنی ایک کتاب میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔ یعنی انسان زمین کا الین ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *