Menu

Get Socialize

حضرت عزرائیل موت کے فرشتے کیسے مقرر ہوئے ؟

Description

جب حضرت آدم علیہ اسلام کی تخلیق کا وقت آیا
تو اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل کو اس زمین سے مٹی لانے کو کہا
۔حضرت جبرائیل آمین زمین پر آئے۔اُس جگہ جس جگہ خانہ کعبہ ہے۔حضرت جبرائیل آمین نے چاہا کہ وہاں سے خاک لی جائے۔
پر اُس ہی وقت زمین نے اُن کو قسم دی کہ حضرت جبرائیل آمین خُدارا مجھ سے خاک مت لے کہ اس سے خلیفہ پیدا ہوگا اوراُس کی اولاد بہت عاصی و گُنہگار ہو گی
اور اللہ کا عذاب اُن پر نازل ہوگا۔میں مسکین خاک ہوں طاقت اور تحمل عذاب خُدا کا نہیں رکھتی ہوں۔اس بات کو سُن کر حضرت جبرائیل آمین خاک لینے سے باز آگے۔اس ہی طرح حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل بھی خاک لینے کو آئے پر زمین کا یہ جواب سُن کر خاک نہ لے جاسکے۔پھر اللہ نے حضرت عزرائیل کو خاک لانے کو کہا۔حضرت عزرائیل بھی زمین پر آئے۔زمین نے پر اُن سے وہی سب کچھ کہا۔پر حضرت عزرائیل نے کہا کہ جس خُدا کی قسم تُو مجھ کو دیتی ہے میں اُس ہی کے حکم سے آیا ہوں اور خاک لے کر جاؤں گا۔پس حضرت عزرائیل نے ہاتھ بڑہا کر مُٹھی بھر خاک لی اور اللہ کے حضور پش کر دی۔تب اللہ نے فرمایا کہ اے عزرائیل کیونکہ تو اپنا دل سخت کر کے خاک لایا ہے۔تو میں تجھ ہی کواس مٹی سے پیدا ہونے والے آدم کی جان قبض کرنے پر مُقرر کرتا ہوں۔

حضرت عزرائیل نے کہہ کہ یااللہ پھر تو آدم مجھ کو اپنا دُشمن مانے گئے اور مجھ کو بُرا بھلا کہیں گئے۔رب نے فرمایا کہ اے عزرائیل تو غم نہ کرمیں خالق مخلوقات کا ہوں۔ہر ایک کی موت کا سبب گادانوں گا اور ہر شخض اپنے اپنے مرض میں گرفتار ہوگا۔تب تجھ کو کوئی دشمن نہ جانے گا۔
تو دُوستو یوں حضرت عزرائیل کو موت کا فرشتہ مقرر کیا گیا
۔اور اللہ نے جیسے فرمایا کہ ہر کوئی اپنے آپ میں ہی مصروف ہوگا اور کوئی تجھ کو الزام نہ دے گا۔
اور دُوستو جان بدن سے جُدا ہونا ایک بہت تکلیف دہ مرحلہ ہے۔اپنی زندگی یوں گُزارو کے جب حضرت عزرائیل کا سامنا ہو تو پچھتانا نہ پڑے۔
اللہ ہم سب کے حالوں پر رحم فرمائے۔{آمین}

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *