Menu

Get Socialize

جنگ خیر کی تاریخ

Description

خیبر کا وہ قلعہ جسے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے

فتح کیا تھا مدینہ منورہ سے تین سو بیس کلو میٹر دور عرب کے شمال مغرب میں ہے. نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں
یہ بہت زرخیز علاقہ تھا. اور یہاں عمدہ کھجوریں بہت زیادہ مقدار میں پیدا ہوتی تھیں . عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز خیبر ہی تھا. یہاں کے یہودی عرب میں سب سے زیادہ مالدار اور جنگجو تھے.
اور ان کو اپنی مالی اور جنگی طاقتوں پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا. یہ لوگ اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بدترین دشمن تھے. یہاں یہودیوں نے بہت سے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے جہاں یہ ہر وقت دین اسلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشوں میں یعنی انہیں دکھ اور تکلیف پہنچانے کی تدبیروں میں مصروف رہتے تھے . جن میں سے بعض کلوں کے آثار اب تک موجود ہیں. ان میں سے آٹھ قلعے بہت مشہور ہیں. جن کے نام یہ ہیں
کتیبہ. ناعم. شق. قموص. نظاته. صعب. وطیخ. سلالم.
درحقیقت یہ آٹھوں قلعے آٹھ محل تھے اور انہی آٹھوں قلعوں کا مجموعہ یا مرکز خیبر کہلاتا ہے.

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خبر ملی کہ خیبر کے یہودی قبیلہ غطفان کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں. تو ان کی اس چڑھائی کو روکنے کے لیے سولہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا لشکر ساتھ لیکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ممکنہ حملے سے پہلے ہی خیبر روانہ ہوئے. مدینہ منورہ پر حضرت سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو افسر مقرر فرمایا اور تین جنهڈے تیار کرائے. ایک جهنڈا حضرت حباب بن منزر رضی اللہ عنہ کو دیا اور ایک جھنڈے کا علمبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو بنایا.
اور خاص علم نبوی. حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دست مبارک میں عنایت فرمایا. اور ازواج مطہرات میں سے صرف حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لیا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رات کے وقت خیبر قلعے کی حدود میں میں اپنی فوج کے ساتھ ساتھ داخل ہو گئے. اور نماز فجر کے بعد شہر میں داخل ہوئے تو یہودیوں نے دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیا. اور چلا چلا کر کہنے لگے کہ. اللہ کی قسم. مسلمانوں کا لشکر آگیا. اور محمد صلى الله عليه وسلم بهی ساتھ ہیں. اس وقت حضور اکرم نے فرمایا کہ.
خیبر برباد ہو گیا. بلا شبہ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتے ہیں تو کفار کی صبح بری ہو جاتی ہے.
یہودیوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو ایک محفوظ قلعہ میں پہنچا دیا. اور راشن کا ذخیرہ قلعہ. ناعم. میں جمع کر دیا اور فوجوں کو. نطاتہ. اور قموص کے قلعوں میں اکٹھا کیا. ہر قلعہ پر تیر انداز تعینات کر دیے جو قلعہ میں داخل ہونے کی کوشش پر تیروں کی بارش کر دیتے تھے
ان میں سب سے زیادہ مضبوط اور محفوظ قلعہ. قموص تھا. اور مرحب یہودی. جو عرب کے پہلوانوں میں ایک ہزار سوار کے برابر مانا جاتا تھا. اسی قلعہ کا ریئس تھا سلام بن مشکم یہودی گو بیمار تھا مگر وہ بھی قلعہ. نطاتہ. میں فوجیں لے کر ڈٹا ہوا تھا یہودیوں کے پاس تقریباً بیس ہزار فوج تھی جو مختلف قلعوں کی حفاظت کے لیے مورچہ بندی کیے ہوئے تھے.
( آغاز جنگ خیبر. )
سب سے پہلے. قلعہ. ناعم پر معرکہ آرائی اور جم کر لڑائی ہوئی. حضرت محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بڑی بہادری اور جان نثاری کے ساتھ جنگ کی مگر سخت گرمی اور لو کی شدت کی وجہ سے ان پر پیاس کا غلبہ ہو گیا. وہ قلعہ ناعم کی دیوار کے نیچے سو گئے. کنانہ بن ابی الحقیق یہودی نے ان کو دیکھ لیا اور چھت سے ایک بہت بڑا پتھر ان کے اوپر گرا دیا. جس سے ان کا سر کچل گیا اور یہ شہید ہو گئے. اس قلعہ کو فتح کرنے میں پچاس مسلمان زخمی ہو گئے لیکن قلعہ فتح ہو گیا.
قلعہ ناعم کے بعد دوسرے قلعے بھی بہ آسانی اور بہت جلد فتح ہو گئے.جس میں پچاس مجاہدین زخمی اور ایک شہید ہوئے
لیکن قلعہ قموص بہت ہی مضبوط اور محفوظ قلعہ تھا. اور یہاں یہودیوں کی فوجیں بهی بہت زیادہ تھیں. اور انکا سب سے بڑا بہادر مرحب خود اس قلعہ کی حفاظت کرتا تھا. اس لیے اس کو فتح کرنے میں بڑی دشواری ہوئی. کیئ روز تک یہ مہم سر نہ ہو سکی.
پہلے دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کمان میں اسلامی فوجوں کو چڑھائی کے لیے بهجا. دوسرے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زبردست حملہ کیا. لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا. . جسکے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو بلاکر اعلان فرمایا
کے کل جهنڈا اسکو دیا جائے گا جو فاتح خیبر ہو گا. یعنی خیبر کو ضرور فتح کر کے ہی لوٹے گا وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ شکست کھانے والا اور بھاگنے والا نہیں ہے۔ خدا اس کے دونوں ہاتھوں سے فتح عطا کرے گا’۔ یہ سن کر تمام اصحابہ خواہش کرنے لگے کہ کاش یہ سعادت اور بشارت انہیں نصیب ہو۔ اگلے دن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو طلب کیا۔ صحابہ کرام نے بتایا کہ انہیں آنکھوں میں تکلیف  ہے۔ لیکن جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن ان کی آنکھوں میں لگایا جس کے بعد انہیں پوری زندگی کبھی آنکھوں میں تکلیف نہیں ہوی
اور یہ جھنڈا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کے دست مبارک میں تھما دیا
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ قموص. کے پاس پہنچ کر یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی لیکن انہوں نے اس دعوت کا جواب حملہ کرکے اینٹ اور پتھر سے دیا.
اور قلعہ کا ریئس مرحب خود میدان میں اتر آیا. اور بڑے غرور کے ساتھ بولا کہ خیبر خوب جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں. .
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے.
پہلا وار مرحب نے کیا علی نے روک لیا پھر حضرت علی رضی عنہ نے آگے بڑھ کر وار کیا. اور اس کے سر پر تلوار ماری کہ ایک ہی ضرب سے جنگی ٹوپی کٹی سر کٹا مغز کٹا اور تلوار دانتوں تک پہنچ گئی. اور مرحب زمین پر گر کر ڈھیر ہو گیا.
مرحب کی لاش کو زمین پر تڑپتے ہوئے دیکھ کر اس کی تمام فوج اللہ کے شیر پر ٹوٹ پڑی. لیکن ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح ان پر گرتی رہی. جس سے یہودیوں کی صفیں کی صفیں الٹ گئی. اور انکے بڑے بڑے سردار مارے گئے. حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے قلعہ کا دروازہ جو بیس آدمی کھولتے تھے، اکھاڑ لیا اور اسے قلعہ کے دروازہ کے سامنے والی خندق پر رکھ دیا تاکہ افوج گھڑسواروں سمیت قلعہ میں داخل ہو سکیں۔ اس فتح میں 93 یہودی ہلاک ہوئے اور قلعہ فتح ہو گیا ۔ اور اس طرح خیبر کا قلعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں فتح ہو گیا.
جہاں آج بھی اس قلعہ کے نشان اور کچھ آثار باقی ہے
.مسلمانوں کو شاندار فتح ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہودیوں کو ان کی خواہش پر پہلے کی طرح خیبر میں رہنے کی اجازت دی اور ان کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ اپنی آمدنی کا آدھا حصہ بطور جزیہ مسلمانوں کو دیں گے اور مسلمان جب مناسب سمجھیں گے یعنی انہیں محسوس ہوگا کہ یہ یہودی دوبارہ سے کوئی سازشیں کر رہے ہیں انہیں خیبر سے نکال سکتے ہیں ۔ اس جنگ میں بنی نضیر کے سردار حئی بن اخطب کی بیٹی صفیہ بھی قید ہوئیں جن کو آزاد کر کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا
اس جنگ سے مسلمانوں کو ایک حد تک یہودیوں کی گھناؤنی سازشوں سے نجات مل گئی اور انہیں معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے۔ اسی جنگ کے بعد بنو نضیر کی ایک یہودی عورت جس کا نام زینب تھا نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گوشت پیش کیا جس میں ایک سریع الاثر زہر ملا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے یہ محسوس ہونے پر تھوک دیا کہ اس میں زہر ہے مگر ان کے ایک صحابی حضرت بشر بن براء جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک تھے شہید ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسب عادت اپنا بدلہ تو اس عورت سے نہیں لیا لیکن حضرت بشر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بدلے میں اس عورت کو قتل کر دیا گیا ایک صحابی کی روایت کے مطابق بسترِ وفات پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان کی بیماری اس زہر کا اثر ہے جو خیبر میں دیا گیا تھا۔[6]
مسلمانوں کو اس جنگ سے بھاری تعداد میں جنگی ہتھیار ملے جن سے مسلمانوں کی طاقت بڑھ گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *