Menu

Get Socialize

وہ سائنسدان جس نے مردے زندہ کرنے کی کوشش کی

Description

کیا میڈیکل سائنس انسان کو واپس زندگی دے سکتی ہے ؟

یہ سوال یقیناً ہر انسان کے ذہن میں آتا ہو گا اور کسی سائنس پرست کے دماغ میں تو یہ خون کی طرح ڈورتا ہو گا جس کے نزدیک انسانی قسم گوشت کا ٹکڑا اور سیلز اور ٹشوز سے مل کر ہی تو بنا ہے جن کو مرنے کے بعد واپس اگر زندہ کر لیا جائے تو انسانی جسم پہلے کی طرح چلنے لگے گا اور موت کو ختم کیا جا سکے گا ۔
کیونکہ ایک سائنس پرست کے نزدیک روح نامی تو کوئی چیز ہوتی ہیں ہیں ۔
ایسا ہی خیال 1934 میں ڈاکٹر ربورٹ ای کارنش کو آیا جنھوں نے مردہ انسان کو واپس زندہ کرنے کی کوشش کی ۔

یہ تجربہ امریکہ میں کیا گیا تھا ۔
ڈاکٹر رابرٹ کا ماننا تھا کہ اگر کسی جسم میں خون کا بہاؤ کسی طرح واپس شروع کیا جا سکے تو اس مردہ جسم کو واپس زندہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ جب موت ہوتی ہے تو خون کا بہاؤ ہی رک جاتا ہے ۔
اس تجربے کے لئے انھوں نے کچھ مردہ مریضوں کو چنا اور ان کے جسم میں “اینڈرولین ” نامی کیمیکل انجکٹ کیا تاکہ خون پتلا ہو سکے اور جسم میں واپس خون کا بہاؤ کے لئے تیار ہو سکے ۔
اس کے بعد وہ مریض کو ایک سی سا کی طرح دکھنے والے بیڈ پر لیٹا کر تیزی سے ہلاتے تاکہ جسم میں خون کا بہاؤ واپس شروع ہو لیکن ایسا کرنے پر کسی مریض میں کچھ بدلاؤ نہیں دیکھا جا سکا ۔

اس کے بعد انھوں نے یہ تجربہ کتوں پر کیا جس کے لئے 5 کتے منتخب کیے گئے جس میں سے تین کتوں میں کچھ حل چل ہوئی جبکہ باقی کے تین مردہ ہی رہے ۔
اس کے بعد امریکہ کی حکومت نے اس طرح کے تجربات ہر روک لگا دیا کیوں کہ یہ ایک غیر انسانی عمل مانا گیا تھا ۔
لیکن اس کے بعد 1940 میں ہی کتے کے سر کو الگ کر کے اس پر ایسا ہی ایک تجربہ کیا گیا جس میں کتے کے دماغ میں تازہ خون ایک مشین جس کا نام ” آٹو جیکٹر ” ہے کی مدد سے خون سپلائی کیا گیا جس سے کتے کے سر میں معمولی حل چل دیکھی گئی جیسے سائنس کی زبان میں ” response to stimuli” کہا جاتا ہے ۔ اس تجربے کی ویڈیو آپ کو یوٹیوب پر بھی مل جائے گی لیکن بہت ہی دل دہلانے والی ہے اسی وجہ سے ان تجربات پر آئندہ کے لئے پابندی لگا دی گی کیونکہ ایسا کرنا جانوروں پر میں آتا ہے جوکہ مکمل طور پر غیر قانونی اور جرم ہے ۔
اس کے بعد حال ہی میں پھر پر ایک تجربہ کیا گیا جس میں سور کے دماغ کو کچھ منٹس کے لئے زندہ رکھنے کا دعویٰ کیا گیا ۔
لیکن ان تمام تجربات کو جو جانوروں ہر کئے گئے ان میں جانوروں کے دماغ پر تجربات ہوئے اور دماغ میں ہی خون کو جاری کیا گیا جس میں جانوروں کا دماغ ٹھیک سے کام کرتا ہے یا نہیں یہ بھی نہیں دیکھا جا سکا کیونکہ وہ اس قابل ہی نہیں ہوتا تھا اور نا ہی اتنا وقت ملتا کہ مزید کچھ جانا جا سکتا ۔ جبکہ یہ ناممکن مان لیا گیا ہے کہ سارے جسم میں خون جاری کر کے جسم کو زندہ کیا جا سکتا ہو ۔
لیکن بس اتنا ہی نہیں دیکھا جائے تو زندگی اور موت قدرت کا قانون ہیں کسی مرے ہوئے کو واپس زندہ کرنے کی کوشش کرنا قدرت کے قانون کے ساتھ چھڑ چھاڑ کرنا ہے اس لئے آج کے دور میں ایسے تجربات کو غیر اخلاقی و غیر قانونی مانا جاتا ہے اور یہ بات بھی تہہ شدہ ہے کہ موت کو انسان کبھی ختم نہیں کر سکتا بلکہ ٹال سکتا ہے جس کی سادہ سی مثال میڈیکل سائنس میں ” سٹیم سیلز ” کا تصور ہے جس سے انسان زندگی کو بڑھا سکے گا جبکہ موت کو سائنس بھی ایک حقیقت مانتی ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا

ان تجربات کے بارے میں مزید پڑھنے اور حقیقت جاننے کے لیے آپ لنک میں موجود کتاب کو پڑھ کر جان سکتے ہیں 👇

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *