Menu

Get Socialize

جنات کی حقیقت ایک انسانی وہم یا پوشیدہ راز

Description

آپ رات کو ایک ڈراونی فلم دیکھ رہے ہیں یا کہانی پڑھ رہے ہیں۔ آپ کو پیاس لگتی ہے آپ اٹھ کر باہر پانی پینے جاتے ہیں تو باہر اندھیرا ہے یا دھندلی روشنی ہے تو آپ کو ڈر لگے گا۔ ایک انجانا خوف، جنات اور چڑیلوں کا ڈر اور اس چیز کے بہت زیادہ امکان ہیں کہ آپ کوئی نہ کوئی انہونی چیز نوٹ کریں گے جو آپ کا ڈر بڑھا دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ خصوصا لڑکیاں جب رات کو چھت پر سے کپڑے اتارنے جاتے ہیں یا کوئی اور کام ہوتا ہے تو واپسی پر ڈر کے مارے دوڑ لگا دیتی ہیں آپ کو ایک انجان مخلوق کا ڈر ہوتا۔ اصل میں وہاں کوئی جن یا چڑیل نہیں ہوتا بلکہ آپ کا اپنا دماغ آپ کا اپنا لاشعور آپ کے دماغ میں دی ہوئی تازہ معلومات جوکہ ڈراونی فلم یا کہانی ہے کو پراسیس کرتا ہے اور اس کے بعد وہ عام سی چیزکو نوٹ کر کے ایک غیر معمولی چیز دکھاتا یا محسوس کرواتا ہے اور خطرے کا احساس پیدا ہوتا ہے جو محض آپ کا وہم ہی ہوتا ہے۔ اس چیز کو سائنس کی زبان میں ہیلوسنیشن اور پلاسیبو ایفکٹ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی نفسیاتی بیماریوں کو پاکستان کے لوگ جعلی پیروں اور عاملوں کی بدولت جادو کا شاخسانہ قرار دے دیتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنات سائنس اور اسلام سے ثابت شدہ کوئی مخلوق اور حقیقت ہے یا محض ایک وہم ہے؟
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے آپ کو سائنس اسلام اور حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔
موجودہ سائنسی طریقہ کار مشاہدات پر مبنی ہے یعنی سائنس کی ڈومین میں سائنس اس چیز کو مانے گی جس کا مشاہدہ اور تجربہ کیا جا سکے اور اسے کوئی بھی دہرا سکے۔ جبکہ اسلام ایک مکمل دین ہے اور جو اصول اسلام نے بتائے وہ اٹل ہیں۔ اور حقیقت اصل میں سائنس کی ڈومین سے باہر ایک میٹافیزیکل شے ہے۔
موجودہ سائنسی طریقہ کار کے مطابق جنات کو لبارٹری میں رکھ کر اس کی تصویریں بنا کر اس کی لمبائی چوڑائی ماپ کر یا کوئی کیمائی تعاملات کر کے تجربہ یا مشاہدہ نہیں کیا جاسکا۔ جنات کے مشاہدات لوگوں نے کر رکھے ہیں مگر ایسا مشاہدہ دوبارہ کسی بھی وقت اپنی مرضی سے دہرایا نہیں جا سکتا اس لئے سائنس ان شواہد کو سائیڈ پر رکھ دیتی ہے۔ مثلا اگر آپ نے رات 2 بجے مکران کے آس پاس ایک چڑیل دیکھی تو کوئی دوسرا رات دو بجے وہاں جائے تو سو فیصد امکان ہے کہ وہ نہیں دیکھ پائے گا کیوں کہ جنات اور چڑیل ہمارے مشاہدے کے پابند نہیں اور مشاہدہ دہرایا نہیں جاسکتا۔ ہاں اگر سائنسی طریقہ کار میں ردوبدل کر دیا جائے تو ہو سکتا ہے سائنس جنات کو ماننے لگے۔
جہاں تک بات جنات کے سائنسی شواہد کی ہے تو بنی نوع انسان نے ایسی ٹکنالوجی ابھی تک نہیں دریافت کی جس سے جنات کو دیکھا جا سکے (مستقبل کا مجھے علم نہیں)۔ جس طرح ماضی میں ہم بہت سی دریافتوں سے لاعلم تھے ہو سکتا ہے اب بھی مستقبل میں ہم بہت سی نئی مخفی مخلوقات دریافت کر لیں تب تک انتظار کریں۔

جہاں تک اسلام کی بات ہے تو جنات کا ایک الگ مخلوق ہونے کا سراغ ہمیں قرآن و حدیث سے ملتا ہے۔ جن کا معنی چھپی ہوئی مخلوق ہے اور یہ مخلوق انسانی آنکھ سے اوجھل ہے۔ انسانوں کی طرح اللہ نے اس مخلوق کو عبادت کے لئے پیدا کیا اور ان کا بھی قیامت کے روز حساب ہوگا۔ مسلمان جنات جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے ان کی خوراک وہ ہڈیاں ہیں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اس کے علاوہ اور بھی خوراک ہو سکتی ہیں جن کا مجھے علم نہیں۔ چونکہ جن چھپی مخلوق ہیں اس لئے یہ مخفی ہی رہتے ہی اور شازونازر ہی سامنے آتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے جنات کے وجود کا انکار کیا ہے جن میں ایک بہت بڑی ہستی سرسید احمد خاں ہیں جو جنات کو دیہاتی آدمی کہتے ہیں۔ آجکل کچھ لوگ جنات کو بیکٹیریا کہہ رہے ہیں۔ اور کچھ لوگوں نے ان کا اسلام میں سرے سے ہی انکار کیا ہے جن میں غلام احمد پرویز اور جاوید احمد غامدی شامل ہیں۔ اسلام میں جنات کو نہ ماننے والے وہ لوگ ہیں جو جنات کا واضح ثبوت نہ پاکر لفظ “جن” کی خود ساختہ تشریح کی۔

اب آتے ہیں حقیقت پر۔ میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ حقیقت ایک میٹافزیکل چیز ہے۔ اب آپ سب باتوں کو زہن میں رکھ کر جس چیز کو سچ سمجھیں گے وہ آپ کے لئے حقیقت ہوگی۔ اگر آپ سائنس جیسے نامکمل علم کو مکمل سمجھتے ہیں تو جنات آپ کے لئے حقیقت نہیں۔ اگر آپ اسلام کو مقدم اور حقیقت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں تو جنات آپ کے لئے ایک حقیقت ہے۔ اگر آپ چند اشخاص کی خود ساختہ اسلامی تشریح کو مقدم جانتے ہیں تو جنات آپ کے لئےحقیقت نہیں ہیں۔

اب آپ نچے کمنٹ باکس میں بتا سکتے ہیں کہ آپ کے لئے حقیقت کیا ہے۔

میرے لئے جن کا وجود ایک حقیقت ہے اور میرے سامنے کچھ زندہ مثالیں بھی موجود ہیں جن کو میں پرکھ چکا ہوں مگر یہاں بیان نہیں کر سکتا۔ اور دوسری بات یہ کہ جنات کی حقیقت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر چیز کو جنات اور جادو سمجھ لیں اپنی عقل کے ساتھ غوروفکر کو جاری رکھیں۔۔۔


					

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *