Menu

Get Socialize

زمین پر ڈائناسورسسے بھی خطرناک کونسی مخلوقات موجود تھیں؟

Description

کریں گے کہ آج ان  میں سے  کوئی بھی  زندہ نہیں ہے ورنہ ہم انسانوں کا کیا ہوتا ۔

١ : Kaprosuchus

آج سے لاکھوں پہلے  کتنے بڑے سائز کے جانور اس زمین پر راج کیا کرتے تھے جن کا مقابلہ کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی ۔یہ جانور ڈائناسور سے بھی کئی گنا بڑے اور ان سے کہیں زیادہ خطرناک تھے ۔جن کے فوسلز ملنے کے بعد ہم پر یہ حقیقت واضح ہوئی. ۔لیکن جب انسان کو زمین پر اتا ر نے  کا ارادہ ہوا تو ان تمام خطرناک جانوروں کا ایک ایک کر کے آہستہ آہستہ زمین سے صفایا ہوگیا ۔۔ ورنہ انسانوں کا  زمین پر رہنا ناممکن تھا ۔ہماری زمین آج  بھی کروڑوں نسل کے جانوروں اور پودوں کا گھر ہے مگر آج سے لاکھوں یا کروڑوں سال پہلے زمین پر کچھ اس طرح کے خطرناک جانور موجود تھے جن  کے بارے میں جان کر آپ کےہوش اڑ جائیں گے اور آپ شکر

 اگر آج دنیا کے خطرناک ترین جانوروں کا نام لیا جائے تو یقینا مگرمچھ

کا نام آپ کے دماغ میں ضرور آئے گا ۔جب کہ اگر  آپ سے پوچھا جائے کہ آج سے لاکھوں سال پہلے سب سے خطرناک جانور کونسے تھے تو آپ ڈائناسور کا نام لیں گے ۔لیکن امیجن   کریں کہ اگر ڈائناسور اور مگرمچھ کا کوئی بچہ پیدا ہو تو وہ کیسا ہوگا؟

آپ کو امیجن کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اسی کا نام کیپرو سوچس  تھا ۔اس کا جسم اور دھڑ مگرمچھ کی طرح تھا جب کہ ٹانگیں ایک ڈائناسور کی طرح لمبی ہوگئی تھیں  جبکہ اس کے دانت منہ  سے باہر نکلے ہوئے ایک آر ی  کی طرح  کسی بھی جانور کو چیر پھاڑ سکتے تھے .یہ مگرمچھ کی طرح پانی میں نہیں بلکہ خشکی پر آج سے ایک کروڑ سال پہلے رہتا تھا۔جس کے فورسز نائجیریا کے خشک  صحرا وں  میں ملے ہیں   ۔آج  مگرمچھ کی  گریپ  کے بارے میں تو  سبھی لوگ جانتے ہیں کہ یہ  اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ کوئی بھی جانور اس کے  jabron  کے شکنجے میں ایک بار آ جائے تو پھر وہ باہر نہیں  نکل سکتا ۔ مگر  ان کی کم رفتار ان کے لئے سب سے بڑی مشکل ہے لیکن لاکھوں سال پہلے ایسا کچھ نہیں تھا ۔کیپرو سوچس  سائز کے اندر 21 فٹ تک لمبے ہوتے تھے اس کے دانت اور جبڑے  آج کے دور کے مگرمچھ  بھی زیادہ تیز اور طاقتور تھے  اور یہ  ڈایناسور کی طرح دوڑ سکتے تھے ۔اب ذرا ایسے جانور کو ایمیجن کرکے دیکھی جو مگرمچھ کی طرح طاقتور ہو آپ کے پیچھے ڈائناسور کی طرح  دوڑ  سکے کیا انسان اس سے بچ کر کہیں نکل سکتے تھے ۔اور یہی اس کی سب سے بڑی خاصیت تھی کہ کوئی بھی اسکا شکار  ایک بار سامنے نظر آنے پر بچ نہیں سکتا تھا۔ Tyrano sourus ٹی یرانو سورس آج سے لاکھوں سال پہلے ڈائناسورز کی  تقریبا ایک ہزار کے قریب نسلیں اس  زمین پر موجود  تھیں جو اپنے  سائز اور شکل و صورت سے تو  خوفناک تھیں  ہی  مگر ان کی ایک نسل ٹیرینو سورس  یا ٹی  rex  کوکنگ آ ف dinasours   کہتے تھے جو ان سب میں سے سب سے زیادہ خطرناک تھی ۔یہ آج کے دور کے ویسٹ نارتھ امریکا میں رہتے تھے جو 20فوٹ اونچے اور 14 ہزار کلو گرام تک وزنی  ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے جبڑے انتہائی طاقتور تھے جن سے یہاں 57000 نیوٹن کی فورس  پیدا تھے جو کہ اب تک ریکارڈ کردہ سب سے زیادہ طاقتور ترین پکڑ ہے ۔یعنی کہ ایک ہاتھی کو کسی اسٹیکر پر بٹھا دیا جائے ۔اس کے علاوہ ان کے چھوٹے چھوٹے پنجوں پر موجود خطرناک ناخن شکار کو پھاڑنے  کے لئے استعمال ہوتے تھے  ۔یہ اتنے خطرناک تھے اپنی نسل کے گھاس کھانے والے   بڑے ڈائناسوز کا شکار کرتے تھے  اور ان کی رفتار سے چالیس کلومیٹر پر گھنٹہ ہوتی تھی۔جسے ہالی  ووڈ کی    مشہور موویز  مثلا جراسک پارک میں بھی دکھایا گیا  ۔مگر اچانک زمین پر گرنے والے  ایک شہاب ثاقب نے انکا زمین پر صفایا کردیا جب کہ یہ  باقی بچ جانے  والے  بھوک کی وجہ سے مر گئے ۔ آج کے دور کے اندر  اگر  آج  بھی اتنا خطرناک شکاری جانور  موجود ہوتا تو یقینا  اس کا سب سے پہلا شکار ہم انسان ہوتے ۔ہاسٹ ایگل 3.Hasst eagleپرندوں میں آج جو بھی پرندہ سب سے تیز نظر سب سے تیز پرواز اور آسمان سے اچانک اپنے  شکار پر جھپٹنے کے لیے جانا جاتا ہے وہ  ہے  ایگل  یعنی عقاب ۔ان کے پنجے اور چونکہ انتہائی خطرناک ہوتے ہیں  اور اپنے بڑے پروں  کے  سائز کی وجہ سے یہ اپنے سائز سے  کئی گناہ وزنی شکار کو ہوا میں  اٹھا سکتے ہیں۔مگر امیجن کریں اسی اوقاب  کی ایک ایسی نسل کو جو 10 سے 12 کلو گرام وزنی ہوں اور اس کے پروں کی لمبائی یعنی کہ  Wing span  دس فٹ تک لمبا ہو ۔یعنی کہ ان کا سائز بہت بڑا ہو  .جی ہاں ان کی ایک ایسی نسل سن چودہ سو کی  دہائی تک   نیوزی لینڈ کے جنوبی علاقوں کے اندر موجود تھے جو   آج تک کی تاریخ کے   سب سے بڑے  ایگل تھے ۔یہ آسمان سے 220 کلو گرام تک کا وزن بھی اٹھا سکتے تھے اور اچانک سے انسانوں پر آسمان سے حملہ کرکے ان کا شکار کرنے لگے تھے  ۔اس کے جواب میں انسانوں نے بھی  ان کا شکار شروع کیا اور یوں یہ آہستہ آہستہ زمین سے ختم ہوتے چلے گئے ۔لیکن اگر آج بھی یہ زمین پر موجود ہوتے تو یقینا انسانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتے تھے۔ 4Gigantopethicus جائے گینٹو پتھیکس اایپس  بندروں کے بارے میں خاص فیکٹ یہ ہے کہ یہ اپنے سائز کے انسانوں سے تقریبا دس گنا زیادہ طاقتور ہوتے ہیں مگر آج سے تقریبا 90 لاکھ پہلے ویتنام انڈونیشیا اور چائنا  کی سر زمیں پر  ریل  منی کنگ کانگ یعنی گوریلا کی ایسی نسل موجود تھی جو دس فٹ تک لمبے ہوتے تھے اور حد سے زیادہ طاقتور ۔اپنے   اتنے بڑے سائز کی بدولت یہ کتنے زیادہ طاقتور ہوں گے یہ  آپ خود  imagine  کر سکتے ہیں۔جو انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی چیر پھاڑ سکتے تھے ۔اسی لیے اگر آج زندہ ہوتے تو یقینا  انسانوں کا جینا حرام کر دیتے  ۔ لیکن آج سے تقریبا ایک لاکھ سال پہلے ہی ان کا زمین سے ختم ہوگیا ۔
5Magladon شارک آج سے تقریبا تھری  پوائنٹ سکس ملین سال پہلے دی گریٹ وائٹ شارک کی ایک نسل  سمندر پر راج کیا کرتی تھی ۔یہ ایک  انتہائی خطرناک شکاری تھی جو ستر فوٹ تک  لمبی ہوتی تھی یعنی کہ آج کے دور کی تین گریٹ وائٹ شارک کے برابر  اور اس کا وزن تھا  دس سے پچاس ٹن۔ اس کے جبڑے ساڑھے چھ انچ جبکہ دانت  14 انچ  تک  بڑے تھے یعنی کے کیی  زندہ انسانوں کو ایک ساتھ نگل  سکتی  تھی ۔آج اگر یہ مچھلی سمندر میں موجود ہوتی تو یقینا کوئی بھی  beches  پر جانے  یا سمندر میں swimming کرنے کا کبھی بھی نا  سوچتا ۔ مگر خوش قسمتی سے پچیس لاکھ سال پہلے ان کا سمندر  سے خاتمہ  ہوگیا۔ 6 titanoboa اور سب سے آخر میں بات کرتے ہیں اب تک کہ known  سب سے زیادہ  بڑے  سائز کے خطرناک ترین سانپ  یعنی  60 ملین سال پہلے زمین پر موجود ک سانپ کی ایک ایسی  نسل کی جس کا نام تھا ٹائیٹانو  بواء ۔یہ سائز میں اتنا بڑا تھا کہ اس کے پسندیدہ شکار تھے بڑے بڑے سائز کے مگرمچھ اور ڈائناسوز تھے  ۔کیونکہ یہ سائز میں 50 فیٹ  تک لمبے  تھے اور ان کا وزن  ایک ہزار 135 کلو گرام  جتنا ہوتا تھا ۔جوکہ ٹراپیکل فورسٹ یعنی گھنے جنگلات مثلا کمبوڈیا اور لاؤس کے علاقوں میں پائے جاتے تھے ۔یہ شکار کو جکڑ کر ان کا سانس روک کر مارتے اور پھر ایک ہی بار میں نگل جاتے ۔اگر آج یہ جانور زمین پر موجود ہوتا تو انسانوں کے ساتھ ساتھ  اس کے سائز  سے چھوٹے ہر  جانور بھی خطرے میں ہوتے ۔اسی لئے اچھا ہوا کے  انکا  زمین سے خاتمہ ہوگیا۔سب دوستوں آپ کو ان میں سے سب سے خطرناک جانور کونسا لگا اور کیوں۔ اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کیجئے گا  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *